We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.

زندہ ہونے والے ہیں معدوم جانور

جانوروں کی مٹ جانے والی نسلوں کو حیات نو دینے کے تجربات کام یابی سے ہم کنار ہونے کو ہیں۔ فوٹو : فائل

30 جولائی 2003ء وہ تاریخی دن تھا جب ہسپانوی اور فرانسیسی سائنس دانوں پر مشتمل ٹیم نے وقت کا پہیا الٹا چلادیا! اس روز یہ ٹیم ایک ایسے جانور کو زندہ کرنے میں کام یاب ہوئی جس کی نسل معدوم ہوچکی تھی۔

یہ جانور ایک قسم کی جنگلی بکری تھی، جسے bucardo یا Pyrenean ibex کہا جاتا تھا۔ بکارڈو بڑے قد والی خوب صورت بکری کی نسل تھی، جس کا وزن 220 پونڈ تک اور سینگ خم دار ہوتے تھے۔ فرانس اور اسپین کو منقسم کرنے والے پہاڑی سلسلےPyrenees کی اونچی نیچی چوٹیوں پر بکریوں کی یہ نسل چار ہزار برس تک اچھلتی کودتی اور پودوں کے پتوں اور تنوں پر گزارہ کرتی رہی۔

پھر بندوق کا دور آیا، کئی صدیوں تک شکاری ان بکریوں کا شکار کرتے رہے،ِ جس کا نتیجہ ان کی آبادی میں کمی کی صورت ظاہر ہوا۔ 1989ء میں ہسپانوی سائنس دانوں نے ایک سروے کیا، جس کے نتیجے میں یہ تشویش ناک بات سامنے آئی کہ یہ بکریاں محض ایک درجن کی تعداد میں باقی رہ گئی تھیں۔ مزید دس برس کے بعد اس نسل کی صرف ایک بکری باقی رہ گئی تھی جسے ’’سیلیا‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔

اورڈیسا اور مونٹے پرڈیڈو نیشنل پارک کی ٹیم نے جانوروں کے معروف ڈاکٹر البرٹو فرنانڈز کی قیادت میں سیلیا کو پکڑ اس کی گردن میں ’’ریڈیو کالر‘‘ باندھا اور واپس جنگل میں چھوڑدیا۔ نو ماہ کے بعد ریڈیو کیک درخت کے نیچے دبی ہوئی ملی۔ سیلیا کی موت کے ساتھ ہی بکارڈو کی نسل معدوم قرار پاگئی، مگر سیلیا کے جسم سے حاصل کردہ خلیات زندہ تھے، جنھیں زاراگوزا اور میڈرڈ میں واقع تجربہ گاہوں میں محفوظ کیا گیالر سے ایک طویل بیپ آنے لگی، جو اس امر کی علامت تھی کہ سیلیا مرچکی ہے۔ ریسرچ ٹیم کو سیلیا اا تھا۔

اگلے چند برسوں میں reproductive physiologists کی ایک ٹیم نے جوز فولک کی سربراہی میں ان خلیوں میں سے مرکزے نکال کر اسی بکری کے ڈی این اے سے محروم کردہ بیضوں میں داخل کردیے، جس کے بعد یہ بیضے 57 زندہ بکریوں کے تولیدی اعضا میں رکھ دیے گئے۔

صرف سات بکریاں حاملہ ہوسکیں اور ان میں سے بھی چھے کا حمل ضائع ہوگیا۔ فولک اور ان کی ٹیم آپریشن کے بعد بکارڈو کا ایک کلون حاصل کرنے میں کام یاب ہوگئی، مگر یہ کلون بھی صرف چند منٹ ہی تک زندہ رہ سکا۔ سائنس داں اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اسے نہ بچاسکے۔ کلون کا اندرونی معائنہ کرنے پر پتا چلا کہ اس کے پھیپھڑے کا ایک حصہ غیرمعمولی طور پر بڑا تھا، جس کی وجہ سے نومولود جانور کے لیے سانس لینا ممکن نہ تھا۔

ایسے جانوروں کی فہرست خاصی طویل ہے، جن کی نسلیں انسانوں کے ہاتھوں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں اور متعدد جانور ایسے ہیں جو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ البرٹو فرنانڈز کا تعلق سائنس دانوں کے اس گروہ سے ہے جس کا یقین ہے کہ کلوننگ کے ذریعے معدوم جانوروں کو پھر سے وجود میں لایا جاسکتا ہے۔ معدوم ہوجانے والے جانوروں کے دوبارہ زندہ ہوجانے کا تصور دو عشروں سے حقیقت اور سائنس فکشن کے درمیان جھول رہا ہے جب سائنسی ناول نگار مائیکل کرائٹون نے اپنے ناول میں ڈائنوسارز کو پھر سے سطح ارض پر دندناتے ہوئے دکھایا تھا۔

اس عرصے کے دوران معدومیت کی سائنس قصے کہانیوں سے بہت پیچھے رہی ہے۔ سیلیا کے کلون کی پیدائش کی صورت میں سائنس دانوں کو پہلی بار معدومیت کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ اب فرنانڈز، جو اب حکومت کے محکمہ برائے شکاریات، ماہی گیری اور دلدلی علاقے کا سربراہ ہے، ان لمحات کا منتظر ہے جب سائنس اور انسان بالآخر صفحۂ ہستی سے مٹ جانے والے جانوروں کو دوبارہ وجود میں لانے کے قا بل ہوں گے۔ اور فرنانڈز کا کہنا ہے کہ یہ انقلابی لمحات اب زیادہ دور نہیں ہیں۔

گذشتہ دنوں نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کے امریکی دارالحکومت میں واقع صدر دفتر میں ماہرین جینیات، ماہرین جنگلی حیاتیات، جنگلی حیات کے تحفظ کے ماہروں اور ماہرین اخلاقیات جانوروں کو عدم سے وجود میں لانے کے موضوع پر غور و فکر کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے کہ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ اور کیا واقعی ایسا کیا جانا چاہیے؟ اجتماع کے شرکاء نے ایک ایک کرکے اسٹیم سیلز سے کام یاب ’چھیڑ چھاڑ‘ ، قدیم رکازوں سے ڈی این اے کے کام یاب حصول، گُم شدہ جینوم کی دوبارہ تشکیل کے ضمن میں ہونے والی انقلابی پیش رفتوں کا ذکر کیا۔ جیسے جیسے شرکاء کی گفت و شنید آگے بڑھی وہ پُرجوش ہوتے چلے گئے۔ بہ تدریج اس بات پر اتفاق رائے پایا جانے لگا کہ معدوم جانوروں کو پھر سے زندہ کرنا ممکن ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق جانوروں کی صرف ان ہی نسلوں کو وجود میں لانا ممکن ہوپائے گا جو چند لاکھ سال قبل معدوم ہوئی تھیں اور جن کی باقیات میں سالم خلیات یا کم از کم ان جانوروں کے جینوم کی تشکیل نو کے لیے درکار مقدار میں ان کا ڈی این اے موجود ہے۔

انحطاط پذیری یا گلنے سڑنے کے قدرتی عمل کی شرح کے پیش نظر Tyrannosaurus rex ( ڈائنوسار کی قسم ) کو زندہ نہیں کیا جاسکتا جو ساڑھے چھے کروڑ سال قبل معدوم ہوگیا تھا۔ نظری طور پر تو وہ تمام انواع دوبارہ وجود میں لائی جاسکتی ہیں جو انسانیت کے ارتقا کے ساتھ ساتھ مٹتی چلی گئیں۔

حالیہ برسوں میں ناپید ہونے والی حیوانی نسلوں کا ذمہ دار خصوصیت سے خود انسان ہے، جس نے ان جانوروں کے شکار، ان کے قدرتی مسکن کی تباہی وبربادی اور ان میں مختلف امراض کے پھیلاؤ کا سبب بن کر انھیں صفحۂ ہستی سے مٹانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ وجہ بھی ان جانوروں کو پھر سے وجود میں لانے کے لیے جواز فراہم کرتی ہے۔ درحقیقت معدوم جانوروں کو زندہ کرنے کے معاملے پر سائنس داں برادری میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

نیو ساؤتھ ویلز یونی ورسٹی کے ماہر رکازیات مائیکل آرچر سمیت سائنس دانوں کی نمایاں تعداد ناپید حیوانی انواع کو وجود میں لانے کی حامی ہے جس کا کہنا ہے کہ اس کے بے شمار فوائد سامنے آئیں گے۔ بہت سے لوگ اس کی مخالفت بھی کررہے ہیں جن کا موقف ہے کہ یہ عمل خدائی کا دعویٰ کرنے کے مترادف ہوگا۔ مائیکل آرچر اور ان کے ہم نواؤں کے مطابق حیاتیاتی تنوع فطری ایجادات کے لیے ذخیرہ گاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

مثال کے طور پر بیشتر طبی ادویہ پہلی بار ان جنگلی پودوں کی مختلف انواع میں پائے جانے والے مرکبات سے اخذ کی گئی تھیں جو ہنوز معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ تاریخ کا حصہ بن جانے والے کچھ جانور اپنے ماحولیاتی نظام میں چند مفید تبدیلیوں کا باعث تھے، ان جانوروں کی واپسی سے ان فوائد کا حصول پھر سے ممکن ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر بارہ ہزار سال قبل سائبیریا دیوقامت ہاتھیوں ( mammoths) اور دیگر قوی الجثہ چرنے والے ممالیہ کا مسکن تھا۔ اُس دور میں اس پورے خطے پر سرسبز گھاس لہلہاتی تھی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ میمتھ اور متعدد دیگر چرندوں کے فضلے کی وجہ سے یہ قطعۂ ارض گھاس سے ڈھکا ہوتا تھا۔ ان جانوروں کے معدوم ہوجانے کے بعد بہ تدریج گھاس کی جگہ کائی نے لے لی اور اس خطے کی زرخیزی میں بھی کمی آتی چلی گئی۔ اب سائنس داں یہاں گھوڑوں اور چرنے والے دیگر بڑے ممالیہ کو بساکر اس علاقے کی زرخیزی واپس لانے کی سعی کررہے ہیں۔

دس برس قبل جب فرنانڈز نے بکارڈو کو ’واپس‘ لانے کی کوشش کی تھی تو ان دنوں کلوننگ میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی خام تھی۔ اس وقت جس جانور کو کلون کرنا مقصود ہوتا تھا، سائنس داں اس کا ایک خلیہ لے کر اس کا ڈی این اے جینیاتی مواد سے عاری ایک بیضے میں رکھ دیتے تھے۔ پھر بجلی کے جھٹکے کی مدد سے یہ بیضہ تقسیم کے مرحلے سے گزرتا تھا اور جنین میں ڈھلنے لگتا تھا، جسے بعدازاں متبادل ماں کے رحم میں رکھ دیاجاتا تھا۔

اس تیکنیک کے ذریعے بہت کم حمل قرار پاتے تھے اور پیدا ہونے والے جانور اکثر اوقات جسمانی معذوری اور صحت کے دیگر مسائل سے دوچار ہوتے تھے۔ گذشتہ ایک عشرے کے دوران سائنس دانوں نے کلوننگ کے میدان میں اپنی کام یابی کی شرح کو کئی گنا بہتر بنالیا ہے اور اب یہ تیکنیک پُرخطر سائنس سے معمول کے کاروبار کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔ محققین نے یہ قدرت بھی حاصل کرلی ہے کہ وہ جانور کے بالغ خلیات کو جنین جیسی حالت اختیار کرنے پر مجبور کرسکیں۔ پھر انھیں بیضوں یا نر تولیدی خلیوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ بعدزاں ان بیضوں کے ساتھ ’ چھیڑ چھاڑ‘ کر کے انھیں کامل جنین کی شکل دی جاسکتی ہے۔

ٹیکنالوجی میں ہونے والی اس ترقی نے معدوم حیاتیاتی انواع کو وجود میں لانے کا عمل آسان تر کردیا ہے۔ سائنس داں اور محققین عشروں سے میمتھ کو زندہ کرنے پر غور کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلا قدم سائبیریا کے یخ بستہ میدان میں میمتھ کا رکاز تلاش کرنا تھا جو بہترین حالت میں ہو۔ سیئول میں قائم سوآم بایوٹیک ریسرچ فاؤنڈیشن کے نئی کلوننگ ٹیکنالوجی سے لیس محققین میمتھ سے متعلق وسیع علم رکھنے والے ماہرین کے ساتھ مل کر معدوم نسل کے ہاتھی کی باقیات تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

گذشتہ موسم گرما میں اس ٹیم نے دریائے یانا کے ساتھ ساتھ اوپر کی جانب سفر کیا تھا۔ اس دوران انھوں نے منجمد برفانی چوٹیوں میں سرنگیں کھودی تھیں۔ ایسی ہی ایک سرنگ میں سے انھیں میمتھ کے عضلات کے چند ٹکڑے بشمول ہڈیوں کا گودا، بال، کھال اور چربی دست یاب ہوئے۔ ان تمام باقیات کا سوآم کے سائنس داں تجزیہ کر رہے ہیں۔ اگر انھیں ان باقیات میں کوئی زندہ خلیہ مل جاتا ہے تو وہ اس کی مدد سے اسی طرح کے لاکھوں خلیات تیار کرسکیں گے، جنھیں بعدازاں جنین کی شکل دے کر کسی ہتھنی کے رحم میں رکھا جاسکے گا۔

بیشتر سائنس داں اس بارے میں شکوک کا شکار ہیں کہ سائبیریا کے کھلے میدان میں اور نقطۂ انجماد سے بھی نیچے اتنے طویل عرصے تک کوئی خلیہ زندہ رہ سکتا ہے۔ تاہم ایسی صورت میں سوآم بایوٹیک ریسرچ فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر ہوانگ اور ان کے ساتھیوں نے متبادل منصوبہ ترتیب دے رکھا ہے: یعنی میمتھ کے ایک خلیے کا صحیح سالم مرکزہ حاصل کرنا۔

اس امر کے امکانات کافی روشن ہیں کہ خلیے کی نسبت اس کا مرکزہ محفوظ حالت میں ہو۔ بہرحال صرف مرکزے سے میمتھ کی کلوننگ بہت ہی پیچیدہ عمل ہوگی۔ اس کے لیے محققین کو مرکزہ ، ہاتھی کے ایک ایسے خلیے میں منتقل کرنا ہوگا جس کا اپنا مرکزہ نکال دیا گیا ہو۔ اس مقصد کے لیے ہاتھی سے خلیہ حاصل کرنا ہوگا۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو ابھی تک نہیں کیا جاسکا۔

Source:http://www.express.pk/story/127860/

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 235

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by Syed Talal Ahmed on June 26, 2015 at 3:28pm

Muhammad Basarat Ali title hi parhlo ap

Comment by Muhammad Basarat Ali on June 26, 2015 at 11:50am

itna kon parhy

Comment by + Afeefa Tehseen on June 20, 2015 at 5:22am

Comment by Syed Talal Ahmed on June 19, 2015 at 2:58pm

Thanksss

Comment by Syeda Hadiya Bukhari on June 18, 2015 at 10:31pm

interesting info..!!

Comment by Ѽ Gracious Heart Ѽ on June 18, 2015 at 10:24pm

Gud one!

Latest Activity

+ ! ❤️ ░S░I░N░G░E░R liked ٥ دن's discussion Gunahon ki gehrai
34 seconds ago
+ ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! replied to + "αяsαℓ " Ќąƶµяɨ •"'s discussion Happy Marriage to "Zee" & " Nomi weds Noor"....!
9 minutes ago
Qaisar nadeem replied to + M.Tariq Malik's discussion ENG201 Business and Technical English Writing Assignment No 01 Fall 2019 Solution & Discussion in the group ENG201 Business and Technical English Writing
10 minutes ago
Profile IconQaisar nadeem and Isha Chuhdary joined + M.Tariq Malik's group
10 minutes ago
+ ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! posted a discussion
22 minutes ago
+ !! "AS" !! replied to + !! "AS" !!'s discussion Jis Tarah ..
37 minutes ago
+ !! "AS" !! replied to + !! "AS" !!'s discussion Baat Karna ...
37 minutes ago
+ !! "AS" !! replied to + !! "AS" !!'s discussion Ghalti...
38 minutes ago
+ !! "AS" !! replied to + !! "AS" !!'s discussion Yaha Har Cheez ..
38 minutes ago
+ !! "AS" !! replied to + !! "AS" !!'s discussion Alfaaz Ki Nisbat..
39 minutes ago
Profile IconSafdar Mehmood, Shayaan, Hafiz muhammad sufyan and 28 more joined Virtual University of Pakistan
40 minutes ago
+ ! ! ! ! ! ! ReBeL replied to ٥ دن's discussion Gunahon ki gehrai
1 hour ago
MUHAMMAD USMAN replied to MIT's discussion cs604 Quize#1 fall semester 2019 in the group CS604 Operating Systems
1 hour ago
+ ! ! ! ! ! ! ReBeL replied to +¢αяєℓєѕѕ gιяℓ's discussion Iss tasvir ko Unwan Dein :-P
1 hour ago
مخلص posted a discussion
1 hour ago
ambreen fatima and Muhammad Hamza Mehmood are now friends
1 hour ago
MIT added a discussion to the group CS604 Operating Systems
1 hour ago
sardarni liked + M.Tariq Malik's discussion MCM531 Community Journalism Assignment No 01 Fall 2019 Solution & Discussion Due Date: 22-11-2019
2 hours ago
sardarni joined + M.Tariq Malik's group
2 hours ago
blackeagle replied to + M.Tariq Malik's discussion EDU402 Curriculum Development Assignment No 01 Fall 2019 Solution & Discussion in the group EDU402 Curriculum Development
3 hours ago

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service