We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

روزے کا اصل مقصد کیا ہے؟

روزے کا اصل مقصد کیا ہے؟

یہ مضمون صرف ان ہی لوگوں کے لیے ہے جو روزے رکھتے ہیں_ جو رکھتے ہی نہیں تو وہ تو کوئ کوشش ہی نہیں کر رہے کہ جس کہ ضائع ہونے کا اندیشہ ہو، اللہ ان کو ہدایت دے_ آپ سوچو کہ آپ اتنی گرمی میں 17 گھنٹے سے زیادہ بھو...کے پیاسے رہو اور فائدہ بھی کچھ نہ ہو رہا ہو، کیا اس سے بھی زیادہ کوئ نقصان یا گھاٹا ہوگا؟ اس مضمون کو جب ٹائم ملے غور سے پڑھو اور اپنے دل پر پیش کرو اور دیکھو کہ کہیں آپ کی کوششیں ضائع تو نہیں ہو رہیں_ میں صرف اللہ کے لیے یہ کر رہا ہوں اور اسی سے مجھے اجر کی امید ہے_ یہ بھی دعا ہے کہ جن بزرگوں کی تحریروں سے میں استفادہ کرتا ہوں اللہ ان کو بھی اجر دے_

تو بھائیو ہر کام کا ایک مقصد ہوتا ہے اور دوسری چیز اس کام کی وہ خاص شکل ہے جو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اختیار کی جاتی ہے_ مثلا کھانا کھانے کے فعل کو لیجئے_ کھانے سے آپ کا مقصد زندہ رہنا اور جسم کی طاقت کو بحال رکھنا ہے_ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے آپ نوالے بناتے ہیں، منہ میں لے جاتے ہیں، دانتوں سے چباتے ہیں اور حلق کے نیچے اتارتے ہیں_چونکہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے یہی طریقہ بہترین ہے اس لیے آپ نے اسی کو اختیار کیا_ لیکن آپ سب جانتے ہو کہ اصل چیز وہ مقصد ہے جس کے لیے کھانا کھایا جاتا ہے، نہ کہ کھانے کا یہ طریقہ_ اگر کوئ شخص لکڑی کا برادہ یا راکھ یا مٹی لے کر اس کے نوالے بناۓ اور منہ میں لے جاۓ اور دانتوں سے چبا کر حلق سے نیچے اتار لے تو آپ اسے کیا کہیں گے؟ یہی نا کہ اس کا دماغ خراب ہے_ کیوں؟ اس لیے کہ وہ احمق کھانے کے اصل مقصد کو نہیں سمجھتا اور اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ بس کھانے کے چار ارکان ادا کرنے کا نام ہی کھانا کھانا ہے_ اسی طرح آپ اس شخص کو بھی پاگل قرار دیں گے جو روٹی کھانے کے بعد فورا ہی حلق میں انگلی ڈال کر قے کر دیتا ہو اور پھر شکایت کرتا ہو کہ روٹی کھانے سے جو فائدے ہوتے ہیں وہ مجھے کیوں حاصل نہیں ہوتے بلکہ میں تو الٹا روزبروز دبلا ہوتا جا رہا ہوں اور مرنے کی نوبت آگئ ہے_ یہ احمق اپنی اس کمزوری کا الزام روٹی اور کھانے پر رکھتا ہے حالانکہ حماقت اس کی اپنی ہے، اس نے سمجھا کہ کھانے کے ظاہری ارکان سے ہی طاقت اور زندگی ملتی ہے اور وہ میں کر چکا اس لیے روٹی کا بوجھ اپنے معدے میں کیوں رکھو؟ اسے نکالو تاکہ پیٹ ہلکا ہو جاۓ_ اس نے انتظار نہ کیا کہ کھانا ہضم ہو اور خون بن کر سارے جسم میں پھیل جاۓ اور پھر طاقت اور زندگی حاصل ہو_ کھانے کے ظاہری ارکان بھی اگرچہ ضروری ہیں کیونکہ ان کے بغیر روٹی معدے تک نہیں پہنچ سکتی مگر محض ان ظاہری ارکان کے ادا کر دینے سے کام نہیں چل سکتا_ ان ارکان میں کوئ جادو بھرا ہوا نہیں ہے کہ ادا کرو اور بس طلسماتی طریقے پر آدمی کی رگوں میں خون دوڑنے لگے_ خون بننے کے لیے تو اللہ نے جو قانون بنایا ہے اسی کے مطابق وہ پیدا ہو گا_ اس کو توڑو گے تو اپنے آپ کو خود ہلاک کرو گے_ 
اس مثال پر آپ غور کرو تو سمجھ آ جاۓ گا کہ آپ کی عبادتیں کیوں بے اثر ہیں_ سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ آپ نے نماز روزے کے ارکان اور ان کی ظاہری صورتوں ہی کو اصل عبادت سمجھ لیا ہے اور آپ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گۓ ہیں کہ جس نے یہ ارکان پوری طرح ادا کر دیے اس نے بس اللہ کی عبادت کر دی_ اگر واقعی آپ یہی سمجھتے ہیں تو آپ کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کھانے کے چاروں ارکان یعنی نوالے بنانا، منہ میں رکھنا، چبانا اور حلق سے نیچے اتارنا، بس ان چاروں کو کھانا کھانا سمجھتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ جس نے یہ چار ارکان ادا کر دیے اس نے کھانا کھا لیا اور کھانے کے فائدے اس کو حاصل ہونے چاہییں، خواہ اس نے ان ارکان کے ساتھ مٹی اور پتھر اپنے پیٹ میں اتارے ہوں یا روٹی کھا کر فورا قے کر دی ہو_ 
اگر حقیقت میں آپ لوگ اس حماقت میں مبتلا نہیں ہو گۓ ہیں تو مجھے بتائیے یہ کیا ماجرا ہے کہ جو روزےدار صبح سے شام تک اللہ کی عبادت میں مشغول ہوتا ہے وہ عین اس عبادت کی حالت میں جھوٹ کیسے بولتا ہے؟ غیبت کس طرح کرتا ہے؟ بات بات پر لڑتا کیوں ہے؟ اس کی زبان سے گالیاں کیوں نکلتی ہیں؟ وہ لوگوں کا حق کیسے مار کھاتا ہے؟ حرام کھانے اور حرام کھلانے کے کام کس طرح کر لیتا ہے؟ رشوت کیسے لیتا دیتا ہے؟ سود کیسے کھاتا ہے؟ بد نظری یا بے حیائ کے کام کیسے کرتا ہے؟ اس انٹر نٹ یا فیس بک پر کوئ بھی غلط کام کیسے کر لیتا ہے؟ اپنا روزہ فلموں یا گانوں وغیرہ میں کیسے گزار لیتا ہے؟ پھر یہ سب کام کر کے بھی اپنے نزدیک یہ کیسے سمجھتا ہے کہ میں نے اللہ کی عبادت کی ہے؟ کیا اس کی مثال اس شخص کی سی نہیں ہے جو راکھ اور مٹی کھاتا ہے اور محض کھانے کے چار ارکان ادا کر دینے کو سمجھتا ہے کہ اس کو کھانا کہتے ہیں؟ پھر مجھے بتائیے کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ رمضان بھر پورا مہینہ خدا کی عبادت کرنے کے بعد جب آپ فارغ ہوتے ہیں تو اس پوری عبادت کے تمام اثرات شوال کی پہلی تاریخ ہی کو گم ہو جاتے ہیں؟ ہندو جو کچھ اپنے تہواروں میں کرتے ہیں وہی سب آپ عید کے دنوں میں کرتے ہیں_ حد یہ ہے کہ عید کے روز بدکاری اور شراب نوشی اور جوا تک ہوتا ہے_ ناچ گانا تو اپنی ثقافت سمجھ کر کیا جاتا ہے_ اور بعض ظالم تو ایسے ہیں جو دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات کو شراب پیتے اور زنا کرتے ہیں_ عام مسلمان خدا کے فضل سے اس قدر بگڑے ہوۓ تو نہیں ہیں مگر رمضان ختم ہونے کے بعد پاکستان میں یا امت مسلمہ میں کتنے ایسے ہیں جن کے اندر عید کے دوسرے دن بھی تقوی اور پرہیزگاری کا کوئ اثر باقی رہ جاتا ہے؟ خدا کے قوانین کی خلاف ورزی میں کتنی کمی آتی ہے؟ نیک کاموں میں کتنا حصہ لیا جاتا ہے؟ اور نفسانیت اور گناہوں میں کیا کمی آجاتی ہے؟

سوچیے! غور کیجیے کہ اس کی وجہ آخر کیا ہے؟ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں عبادت کا مفہوم اور مطلب ہی غلط ہو گیا ہے_ آپ سارا دن بھوکا پیاسا رہنے کو روزہ سمجھتے ہیں اور بس اسی کو عبادت سمجھتے ہیں_ اسی لیے اس کی حفاظت کرتے ہیں_ خدا کا خوف آپ کو اس قدر ہوتا ہے کہ جس چیز میں روزہ ٹوٹنے کا ذرا سا بھی اندیشہ ہو اس سے بچتے ہیں_ اگر جان پر بھی بن جاۓ تب بھی آپ کو روزہ توڑنے میں تامل ہوتا ہے_ لیکن آپ یہ نہیں جانتے کہ یہ بھوکا پیاسا رہنا اصل عبادت نہیں بلکہ عبادت کی صورت ہے، اور اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے اندر اتنی طاقت پیدا ہو جاۓ کہ جس چیز میں دنیا بھر کے فائدے ہوں مگر خدا ناراض ہوتا ہو اس سے اس سے اپنے نفس پر جبر کر کے بچ سکیں، اور جس چیز میں ہر طرح کے خطرات اور نقصانات ہوں مگر خدا اس سے خوش ہوتا ہو، اس پر آپ اپنے نفس کو مجبور کر کے آمادہ کر سکیں_ یہ طاقت اسی طرح پیدا ہو سکتی تھی کہ آپ روزے کے مقصد کو سمجھتے اور مہینہ بھر تک آپ نے اللہ کے خوف اور اللہ کی محبت میں اپنے نفس کو خواہشات سے روکنے اور خدا کی رضا کے مطابق چلانے کی جو مشق کی ہے اس سے کام لیتے، مگر آپ تو رمضان کے بعد ہی اس مشق کو اور ان صفات کو جو اس مشق سے پیدا ہوتی ہیں اس طرح نکال پھینکتے ہیں جیسے کھانے کے بعد کوئ شخص حلق میں انگلی ڈال کر قے کر دے، بلکہ آپ میں سے بعض لوگ تو روزہ کھولنے کے بعد ہی دن بھر کی پرہیزگاری کو اگل دیتے ہیں_ پھر آپ ہی بتائیے کہ رمضان اور اس کے روزے کوئ جادو تو نہیں ہیں کہ بس ان کی ظاہری شکل پوری کر دینے سے آپ کو وہ طاقت حاصل ہو جاۓ جو حقیت میں روزے سے حاصل ہونی چاہیے_ جس طرح روٹی سے جسمانی طاقت اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ معدے میں جا کر ہضم نہ ہو اور خون بن کر جسم کی رگ رگ میں نہ پہنچ جاۓ، اسی طرح روزے سے بھی روحانی طاقت اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک کہ آدمی روزے کے مقصد کو پوری طرح سمجھے نہیں اور اپنے دل ودماغ کے اندر اس کو اترنے اور خیال، نیت، ارادے اور عمل، سب پر چھا جانے کا موقع نہ دے_ یہی سبب ہے کہ اللہ تعالی روزے کا حکم دینے کے بعد فرمایا "لعلکم تتقون" یعنی تم پر روزہ فرض کیا جاتا ہے، شاید کے تم متقی وپرہیزگار بن جاؤ_ یہ نہہں فرمایا کہ اس سے ضرور متقی وپرہیزگار بن جاؤ گے_ اس لیے کہ روزے کا یہ نتیجہ تو آدمی کی سمجھ بوجھ اور اس کے ارادے پر موقوف ہے_ جو اس کے مقصد کو سمجھے گا اور اس کے ذریعے سے اصل مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گا وہ تو تھوڑا یا بہت متقی بن جاۓ گا، مگر جو مقصد یی کو نہ سمجھے گا اور اسے حاصل کرنے کی کوشش ہی نہ کرے گا اسے کوئ فائدہ حاصل ہونے کی امید نہیں ہے_ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف طریقوں سے روزے کے اصل مقصد کی طرف توجہ دلائ ہے اور یہ سمجھایا ہے کہ مقصد سے غافل ہو کر بھوکا پیاسا رہنا کچھ مفید نہیں_ چنانچہ فرمایا:

جس کسی نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا ہی نہ چھوڑا تو اس کا کھانا اور پانی چھڑا دینے کی اللہ کو کوئ حاجت نہیں_" (بخاری) "بہت سے روزےدار ایسے ہیں کہ روزے سے بھوک پیاس کے سوا ان کو کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے راتوں کو قیام (تراویح شبینہ وغیرہ) کرنے والے ایسے ہیں جن کو اس قیام سے رت جگے کے سوا کچھ پلے نہیں پڑتا" (الدارمی)

ان دونوں حدیثوں کا مطلب بلکل صاف ہے کہ محض بھوکا پیاسا رہنا عبادت نہیں ہے بلکہ اصل عبادت کا ذریعہ ہے اور اصل عبادت ہے، "خوف خدا کی وجہ سے خدا کے قانون کی خلاف ورزی نہ کرنا اور اللہ کی محبت کی بنا پر ہر اس کام کے لیے شوق سے لپکنا جس میں محبوب کی خوشنودی ہو_ اور نفسانیت سے بچنا، جہاں تک بھی ممکن ہو" اس عبادت سے جو شخص غافل رہا اس نے خواہ مخواہ اپنے پیٹ کو بھوک پیاس کی تکلیف دی_ اللہ کو اس کی کیا حاجت ہے کہ آپ 17 گھنٹے کھانا پینا چھوڑ دیں؟ روزے کے اصل مقصد کی طرف سرکار صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح توجہ دلاتے ہیں کہ: "جس نے روزہ رکھا ایمان اور احتساب کے ساتھ، اس کے تمام پچلے گناہ معاف کر دیے گۓ" (بخاری، مسلم) ایمان کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے متعلق ایک مسلمان کا جو عقیدہ ہونا چاہیے وہ عقیدہ ذہن میں پوری طرح تازہ رہے اور احتساب کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رضا کا طالب ہو اور ہر وقت اپنے خیالات اور اپنے اعمال پر نظر رکھے کہ کہیں وہ اللہ کی رضا کے خلاف تو نہیں چل رہا_ ان دونوں چیزوں کے ساتھ جو شخص رمصان کے پورے روزے رکھ لے گا وہ اپنے پچھلے گناہ بخشوا لے گا_ دوسری حدیث میں آیا ہے: "روزے ڈھال کی طرح ہیں (کہ جس طرح ڈھال دشمن کے وار سے بچنے کے لیے ہے اسی طرح روزہ بھی شیطان کے وار سے بچنے کے لیے ہے) لہذا جب کوئ شخص روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ (اس ڈھال کو استعمال کرے اور) دنگے فساد سے پرہیز کرے_ اگر کوئ شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑے تو اس کو کہہ دے کہ میرا روزہ ہے (مجھ سے یہ توقع نہ رکھو کہ تمہارے اس مشغلے میں حصہ لوں گا)" (متفق علیہ) دیگر احادیث میں سرکار نے زیادہ سے زیادہ نیکیاں روزے کی حالت میں کرنے کو کہا خاص کر دوسرے بھائیوں کی ہمدردی کا جزبہ تو پوری شدت سے پیدا ہو جانا چاہیے_ اور سرکار نے کہا کہ تم اسی راہ کو مظبوط پکڑو یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پر آن ملو_ میری آپ سب کے لیے دعا ہے کہ ہم سب حوض کوثر پر سرکار سے اس حال میں ملیں کہ اللہ اور سرکار ہم سے حوش ہوں اور اللہ ہم سب کو بچاۓ اس گروہ سے جو اسی امت کے ہونگے مگر حوض کوثر پر جانے سے روک لیے جائیں گے_ یہ رمضان بہترین موقع ہے_ آپ کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ اس ازلی دشمن سے دھوکا مت کھاؤ_ بہت کم ٹائم رہ گیا ہے_ دل سے توبہ کر لو_ رو پڑو اللہ کے سامنے اور اسے منا لو_ اصل فخر کی بات یہ ہے_

اور گواہ رہو کہ میں نے بات آپ تک پہنچا دی ہے_

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.

..How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?..

..How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?..


See Your Saved Posts Timeline

Views: 99

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Latest Activity

M +S +K updated their profile
24 minutes ago
Sharal Khan replied to Sharal Khan's discussion jag gumya ma :-p
38 minutes ago
Sharal Khan replied to Sharal Khan's discussion jab koi apko pgl .........
38 minutes ago
Sharal Khan replied to Sharal Khan's discussion jab koi apko pgl .........
39 minutes ago
Sharal Khan replied to Sharal Khan's discussion mudat bad............ ;-)
39 minutes ago
Sharal Khan commented on Sharal Khan's blog post ALLAH.........
41 minutes ago
M +S +K posted a status
"Ajab Saneha Hai Ke Itni Be Rukhi Ke Bawajood Bhi Woh Sang Dil, Mere Dil Mein Utarta Gaya, Mere Dil Se Nahi Utara"
46 minutes ago
M +S +K posted a status
"aina dekh apna sa munh le ke rah gaya sahab ko dil na dene pe kitna guroor tha"
47 minutes ago

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service