Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

انسانی زندگی اور بڑھاپا


انسان جب جنم لیتا ہے تو نہایت بے بس و لا چار ہوتا ہے پھر چلنے پھرنے بولنے کو پہنچتا ہے اسکی لاچاری اور بے بسی یہاں بھی اس کے ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے اور اس سب کے دوران کائنات کے رشتوں کا حسین امتزاج جو والدین کی صورت ہوتا ہے ایک سائبان کی ماند ہمہ وقت اسکے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ اس کےبعد وہ طفل مکتب کی صورت سکول جانے لگتا ہے لڑکپن، جوانی، اور یوں انسان اپنی زندگی کے مختلف مراحل کو چھوتا ہوا ایک دائرے کو مکمل کرتا پھر اسی بے بسی کی طرف لوٹتا بڑھاپے کو آن پنہچتا ہے جہاں ایک دفعہ پھر بے بس و لا چار ہو جاتا ہےلیکن پہلے والی بے بسی میں اس کے پاس ہمدرد و شفیق والدین کا ساتھ ہوتا ہے لیکن اب کی بار یہاں ان کے پاس ظالم اولاد ہوتی ہے پھر شاید موت کو انسان کی اس حالت زار پر ترس آ جاتا ہے اور وہ اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے آج کی تحریر میں یہی تلخ حقائق زیر بحث لائے جائیں گے۔ انسانی زندگی کا ہر ہر پل علوم، مشاہدات اور تجربات سے عبارت ہوتا ہے اس میں انسان کی مرضی شامل ہو یا نہ ہو اسکی آنکھ تو دیکھتی ہی رہتی ہے، حس کے سانچےسے گزر کر احساس کے دریچے کھلتے ہی رہتے ہیں ، علم کے سورج طلوع ہو کر غروب اور پھر طلوع ہوتےہی رہتے ہیں زندگی گردش دوراں اور ارتقا کا پیغام دیتی ہی رہتی ہے علم سے آشکار ہو کرشعورانسان کے ہاں حاصل کیے جانے کو بحر بیکراں کی ماند بے قرار رہتا ہے۔ پر یہ انسان عجیب ہی شے واقع ہوئی ہے علم ہونے کے باوجود جاہل بنارہتا ہے علم ہوتا ہے تو شعور سے عاری، شعور ہوتا ہے تو جدوحہد سے عاری۔ اس کے علاوہ غفلت ،جہالت، لالچ، طمع، خود غرضی، حرص، حق تلفی ،ظلم، استحصال جیسی خصلتیں اپنائے رکھنا بھی انسانوں کے ہاں کی باتیں ہیں اورجن معاشروں میں یہ خباثتیں عام ہوتی ہیں وہاں تنزلی اور انسانیت کی تذلیل بھی عام ہوتی ہے جس کی مثال ہمارا سماج ہے۔ اس کے بر عکس جن معاشروں میں علم اور اس کے سانچے سے ہوتا ہوا شعور انسانیت کی معراج ٹھہرتا ہے وہاں انسان اپنی عمر کے جس بھی اسٹیج پہ ہو وہ کبھی پریشان ہوتا ہے نہ ذلیل و خوار ہی ہوتا ہے وہاں انسانیت شعور کے علیٰ معیار سے ہو کر ایثار، ہمدردی، محبّت ،انسان دوستی، عزت و احترام اور اس طرح کے کئی ایک اوصاف و جذبات سے مزئیں ہوتی ہے۔ ہمارے سماج میں ایک ایسا بھی طبقہ پایا جاتا ہے جو اپنے ہاں تجربات کی پوٹلی لیے پھرتا رہتا ہے لیکن ہم ان سے سیکھنے کے بجائے انہیں جھڑکتے ہی رہتے ہیں بقول شاعر کہ ۔۔۔
بڑی چاہ ہے مجھے بوڑھے چہروں سے
قید ہوتی ہے ان میں اک زندگی ساری
میرے مشاہدے میں ایک بات آئی ہے کہ بز رگ خواتین و حضرات کا بلکل ایک جیسا انداز ہوتا ہے چاہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں۔۔ وہی پند و نصائح دینا ملن ساری و پیار اور خلوص کی گتھیوں میں سلجھا ہوا شفیق انداز اپنائے ہوئے جہاں ملیں گے جان چھڑکنے والے ۔۔ اپنی اولاد کے لیے ہر طرح کی صعوبتیں برداشت کرنے والے۔۔اپنی زندگی اولاد پر قربان کردینے والے۔۔ جب بڑھاپے میں پہنچتے ہیں تو اولاد پہ جیسےبوجھ کی طرح ہوں حالانکہ والدین کبھی بھی اپنی اولاد سے کچھ نہیں چاہتے ہوتے سوائے اس کے کہ وہ خود خوش رہیں کامیاب رہیں پھلتے پھولتے اور ہنستے مسکراتے رہیں لیکن پتا نہیں کیوں اولاد انھیں ایک بوجھ کی طرح لیتی ہے مجھے اپنے ابو جان مرحوم کی بیماری کے دوران اکثر ہسپتال میں رات کو ان کے پاس رکنا نصیب ہوا تو وہ پل کتنے پیارے تھے اسکا اظھار میرے حقیر سےآنسوؤں کی صورت پیش خدمت ہے اس دوران میرا ابو کے ساتھ لگاؤ اور پیار اس قدر گہرا سا ہو گیا کہ مجھے ان کے ساتھ کا وہی وقت ہی یاد ہے جیسے میں نے اور ابو نےزندگی کے یہی دن ایک ساتھ بتائے ہوں ۔ ابھی بھی میں جب امی جان کے ساتھ ہسپتال جاتا ہوں وہاں انکی ہم عمر خواتین کو دیکھتا ہوں تو مجھے واقعی میں کسی جنّت کا سا احساس ہونے لگتا ہے۔
یہ سب باتیں کرنےکامقصد یہ ہےکہ اگرکائنات کی کوئی خوبصورتی، کوئی چاشنی ہے تو وہ والدین کی خدمت میں ہےیہ حقیقت ہے کہ موجودہ معاشی نظام کے ہوتے ہوئے ہم اس نہج سے یہ سب نہیں کر سکتے لیکن اگر کر بھی سکیں تو بھی ہم والدین کی ایک اک نیکی اور احسان کا بدلہ نہیں چکا سکتے جو انہوں ہماری ذات پر کیا ہے لیکن ایسا ماحول یا پھرایسی صورت حال بھی نہ بنائی جائے جو ان کے لیے اذیت ناک ہو وہ قطعی طور پر ہماری خدمت کے طلب گار نہیں ہوتے وہ تو بس ہرحال میں بے لوث ہو کر ہماری بھلائی چاہتے ہوتے ہیں تو پھرکیوں ہمیں یہ لوگ کبھی لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتےنظرآتے ہیں۔۔۔؟ کبھی انتہائی ضعیف العمری میں نہایت مشقت کے کام کرتے ملیں گے۔۔؟ کبھی بیمار و لا چار علاج کو ترستے کرہتے ملیں گے ۔۔۔؟ ملوں اور فیکٹریوں میں کام کرتےبوڑھے لوگ نظر آ ئیں گے ۔۔؟ بہت زیادہ وزن والے ریڑے گھسیٹتے شہروں بازاروں میں جابجا بزرگ لوگ نظر آئیں گے۔۔۔۔؟ گھروں میں بھوکے پیاسے بزرگ ماں باپ اپنے بہو بچوں کے ہاتھوں کی طرف دیکھتےرہیں گے کہ کب ہمیں کوئی کھانے کو پوچھےگا۔۔۔؟ صبح اٹھ کر نماز پڑھ اولاد کی سلامتی اور ہر طرح کی بھلائی کی دعائیں مانگتے چائے کو ترستے والدین ہماری انسانیت سوزی پر سوالیہ نشان ہیں ۔۔۔۔؟ اپنی ذات سے ان برائیوں کا سدباب کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم انسانیت کے تر جمان انسانی معاشرے کے باسی کہلائیں

۔

Views: 396

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by Imaan Yousaf on November 27, 2015 at 3:24pm

Jazak Allah aswa noor :)

Comment by aswa noor on November 27, 2015 at 12:17pm

good one

Comment by Imaan Yousaf on November 26, 2015 at 4:29pm

beshak bro Insan laparwai me para h :(

Comment by شیراز on November 26, 2015 at 4:11pm

waqai aj kal ka insaan bht be samjh,na shukra,be sabra aur jald baaz hai...

wo kabi b ap saari zindagi ki palnning me mot ko shaamil ne karta,wo ye ni sochta k jo aj beej raha hai kal ko katna b hai,,aur insaan umer ki jis stage me hota hai wo samjhta hai us ny wesa hi rehna hai...

Comment by нαρρү cнαη∂α] •._.•´¯) on November 24, 2015 at 9:19am

Ameeen Imaan sisooo

Thantu JazakAllah Same Prayers fol you and baqi pplj k liye bhi :)

Comment by Imaan Yousaf on November 21, 2015 at 3:57pm

Jazak Allah Pali Chanda :)
Old to shab ny hona pl mli dua h k ap hmesha happy laho :)

Comment by Imaan Yousaf on November 21, 2015 at 3:55pm

Jazak Allah Muhammad Waqar khan bro...

Comment by нαρρү cнαη∂α] •._.•´¯) on November 21, 2015 at 9:50am

me ny ni hona old 

me bsh ishi age main lehna chahti hon 

Comment by нαρρү cнαη∂α] •._.•´¯) on November 21, 2015 at 9:49am

sprbbbbb post dear 

Allah hum sb ko in bato pe amal krny ki taufeeq ata farmaye . 

great work , keep sharing with us , JazakAllah sisoo

Comment by Muhammad Waqar Khan on November 20, 2015 at 9:55pm

hmmmm nice post....

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service