Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

قرض اتارنے کے دس طریقے

کیا آپ مختلف قرضوں اور ادائیگیوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں؟۔ ۔ آئیے آپ کے ان منحوس قرضوں سے نجات دلانے کے دس طریقے بتاتے ہیں۔

لاہور: (دنیا نیوز) کچھ اہم سوال ہیں جن کا جواب اگر اثبات میں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ حقیقتاً پریشان ہیں۔ مثلاً کیا آپ مختلف قرضوں اور ادائیگیوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں؟ کیا آپ قرضہ سے آزاد خوشحال زندگی بسر کرنے کے متمنی ہیں؟ یا پھر آپ مقررہ تاریخوں تک بلوں کی ادائیگی کی تکلیف سے آزادی چاہتے ہیں؟ اب اگلا سوال یہ ہے کہ ان سے کیسے نجات پائی جائے۔ تو حضرات گبھرانے کی ضرورت نہیں ابھی نہ تو اتنی دیر ہوئی ہے کہ قرضے نہ اتر سکیں اور نہ ہی یہاں پر دنیا کا خاتمہ ہو جاتا ہے کہ آپ کو زندگی منظم کرنے کا موقع نہ مل سکے گا۔ آئیے آپ کے ان منحوس قرضوں سے نجات دلانے کے دس طریقے بتاتے ہیں۔

آمدنی بڑھائیں

قرضوں سے چھٹکارا پانے کی ایک اچھی صورت یہ ہے کہ آپ اپنے خرچ کم کریں اور آمدنی بڑھانے کے تمام مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ کئی لوگ 8 گھنٹے کی نوکری کو کافی سمجھتے ہیں لیکن قرضوں سے پھنسے شخص کے لیے 16 گھنٹے کام بھی کم پڑتا ہے۔ اس صورت میں صحت کے مسائل کا ایشو ہو سکتا ہے لیکن یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ قرضوں کا دباؤ بڑی بیماریوں کا موجب بنتا ہے۔

کمیٹیاں ڈالیں


 

یہ ایک بہت ہی عملی شکل ہے۔ قرضوں سے جان چھڑانے کے لیے اس سے اچھی آپشن کوئی دوسری نہیں ہو سکتی۔ ہمارے یہاں مالی مفادات کے تحفظ کے لیے گھروں میں کمیٹیاں ڈالنے کا نظام بہت ہی موثر ہے۔ قرضے اتارنے کے لیے آپ کمیٹی ڈالیں اور ا س سے حاصل ہونے والی رقم سے وہ قرضہ اتاریں جس کا سود یا مارک اپ زیادہ دینا پڑ رہا ہے۔ اس ضمن میں بولی والی کمیٹی بہت اچھی ثابت ہو سکتی ہے۔

کریڈٹ کارڈ کا استعمال ترک کر دیں

قرض کی اصل وجہ یہ بنتی ہے کہ صارف اس منحوس چکر سے نکلنے کے لیے اور قرض لے کر جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس طرح وہ مزید دلدل میں دھنس رہے ہوتے ہیں۔ اس لعنت سے بچنے کے لیے پہلا اصول تو اپنی زندگی پر یہ لاگو کریں کہ کچھ بھی ہو جائے مزید قرض نہیں لینا اور ہو سکے تو اپنے تمام کریڈٹ کارڈز پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں۔

قرضہ ہے کتنا؟

تسلی سے بیٹھ کر ایک فہرست بنائیں کہ آپ نے کس کس کا کتنا قرضہ دینا ہے۔ پھر دیکھیں کہ کم از کم کتنی رقم واجب الادا ہے اور اس بات کی نشاندہی بھی کریں کہ کس قرض پر آپ زیادہ سے زیادہ مارک اپ دے رہے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھیں کہ کونسا قرض اترنے کے قریب تر ہے۔ اس طرح کی کیلکولیشن سے عملی طور پر تو کچھ نہیں ہوگا لیکن ایک مکمل تصویر بن جائے گی اور آپ کے دماغ میں کئی سلوشن ایک ساتھ اتریں گے۔

کم از کم ادائیگی نمٹائیں

آپ اگر کریڈٹ کارڈ کے جادوگر کھیل کا شکار ہیں جس میں خوبصورت سبز باغوں میں گھیر کہ پھانسا جاتا ہے تو سب سے پہلے آپ اپنے کارڈ کی کم از کم ادائیگی مقررہ وقت میں کرنے کی کوشش کریں۔ اس سے آپ ان اضافی اخراجات سے بچ جائیں گے جو کریڈٹ کمپنیاں مقررہ وقت میں کم از کم ادائیگی نہ کرنے کے جرم میں آپ کے کھاتے میں جمع کر دیتی ہیں۔

کمپنیوں کے ادغام کا فائدہ اٹھائیں

اکثر اس طرح ہوتا ہے کہ مالیاتی ادارے ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے اپنے مفادات کے تحفظ میں ادغام بھی کر لیتے ہیں اور ایسی صورت میں وہ اپنے قرض خواہوں کو کئی سہولیات دینے کا اعلان کرتے ہیں۔ مقروض صارفین کو چاہیے کہ اس سنہری موقع سے ضرور استفادہ کریں۔ اس طرح کی صورت میں قرضے کا مارک اپ کم ہو جاتا ہے اور دیگر کئی فائدے بھی ہوتے ہیں۔

سب سے پہلے مہنگا قرضہ اتاریں

شاید قرضے کی رقم اتنی مشکل کھڑی نہیں کرتا جتنا کہ اس رقم پر دی جانے والی سود کی رقم،اس کی غالباً نفسیاتی وجہ یہ ہے کہ اصل زر دینا اتنا مشکل نہیں ہوتا جتنا سود کی مد میں ادا کی جانے والی رقم تکلیف کا سبب بنتی ہے۔ لہٰذا بہترین حل یہ ہے کہ سب سے پہلے وہ قرضہ ادا کریں جس کا مارک اپ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

دوستوں کی مدد لیں

یہ سچ ہے کہ مشکل وقت میں ہر کوئی ساتھ نہیں دیتا لیکن کچھ دوست ایسے ضرور ہوتے ہیں جو آپ کو آپ کی مشکل سے نکالنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ کئی حضرات شرمندگی اور دوستوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے ہچکچاتے ہیں۔ اس میں شرمندہ ہونے والی کوئی بات نہیں اپنے قرضے کی فہرست ہاتھ میں لیں اور اپنے قریبی دوست کے سامنے رکھ دیں اور حالات سے آگاہی دیں۔

دوبارہ بجٹ بنائیں

قرضوں سے نجات پانے کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ آپ سب سے پہلے اپنا بجٹ دوبارہ سے بنائیں اور اس میں سے وہ تمام آئٹمز نکال دیں جن کے بغیر آپ کا گزارہ ہو سکتا ہے۔ ان تمام اشیاء کی خریداری پر پابندی لگا دیں جو آپ کی زندگی کی روٹین کو متاثر نہ کریں۔ اس ضمن میں کئی اشیاء کی تعداد اور مقدار پر بھی کٹ لگایا جا سکتا ہے۔

ہنگامی بچت کو بڑھائیں

قرضوں سے نجات پانے کا ایک بہترین ذریعہ یہ ہے کہ آپ اپنی ہنگامی بچتوں کو بڑھائیں ۔اس ضمن میں ان تمام لوگوں کے رویوں کا جائزہ لیں جو آپ کی نظر میں کنجوس ہوتے ہیں لیکن آپ دیکھیں کہ کنجوس لوگ بھی تو زندہ ہی ہیں۔ کنجوس لوگوں کا بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ سب سے پہلے بچت مثلاً آپ جوتا خریدتے ہیں تو کم مالیت کے جوتے سے بھی گزارہ ہو جاتا ہے تو کیا ضرورت ہے مہنگا جوتا خریدنے کی۔ اس مثال سے بچت بڑھانے کی تصور واضح ہو جاتا ہے۔

 

Source

Views: 419

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by Binte Ahmed on January 4, 2016 at 9:32pm

Informative post ..

keep sharing 

Comment by M.Jamil(MSCS) on December 18, 2015 at 10:10pm

nice sharing

Comment by Aster on December 14, 2015 at 1:20pm

Comment by Isha Noor on December 7, 2015 at 8:29pm

well said

miana rawi ikhtiar kni chaheye, kyun k miana rawi ikhtiar krny wala kbi kisi ka mohtaj nahe hota

And 1 important bat ye k Paisy jitney b kamaey jayn lakin is bat ka khas khyal rahy k us mn zra b" haram" ki milawat na ho kyun k "haram" mn barkat nahe hoti aur "halal" mn bht barkat hoti ha. "Halal" thora b kafi ha and "haram" ziada b faida nahe daita blke barkat khtm ho jati

and 2nd ye k "Sadqa" dainy se maal mn izafa hota ha and barkat prhti ha, so koshish krni chaheye k jitna b ho sky subh swairy "sadqa' daina chaheye , chahy wo 5 Rs. he kyun na hon, "Sadqa " mushkil ko talta ha

.

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service