We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>


Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

آپ میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو آئینہ نہ دیکھتا ہو۔ کوئی اسے روز دیکھتا ہے اور کوئی اسے بار بار دیکھتا ہے۔ ہم اس میں کیا دیکھنا چاہتے ہیں؟ یہی کہ ہم کیسے لگ رہے ہیں!……یہ ہمیں ایسا ہی دکھاتا ہے جیسا ہم نظر آتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو خود نہیں دیکھ سکتے اسی لیے آئینہ کی ضرورت پیش آتی ہے۔ لیکن یہ آئینہ ہمیں صرف ہماری شکل کے خدو خال ہی دکھاسکتا ہے۔ آپ کی شخصیت میں چھپے خدوخال کو یہ نہیں دکھا سکتا۔ 

کتنی حیرت کی بات ہے کہ ہمیں اپنی شکل و صورت کو ٹھیک کرنے کی فکر تو لگی رہتی ہے مگر اپنی شخصیت کو نکھارنے کی فکر ہمیں نہیں ہوتی یا ہوتی بھی ہے تو اس کے لیے ہم کچھ نہیں کرتے۔ کوئی ہماری شخصیت میں چھپے منفی پہلوؤں کو آئینہ دکھائے تو ہم برا مان جاتے ہیں۔ہم اپنے آپ کو ہیرویا ہیروئن ہی سمجھتے ہیں اوردوسروں کو ہم ولن سمجھتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی شخصیت کو آئینہ میں نہیں دیکھتے۔ آئیے آج ہم اپنی شخصیت کو بھی آئینہ میں دیکھنے کی کوشش کریں ، اس سے قبل کہ کوئی ہمیں آئینہ دکھائے اور ہم برا مان جائیں۔

آپ میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کا دل محبت سے خالی ہو۔ انسان اس دنیا میں آتے ہی جس جذبہ سے مانوس ہوتا ہے وہ جذبہ محبت کا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ جذبہ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ ملتا ہے جس کے باعث شخصیتیں بنتی اور بگڑتی ہیں۔ والدین کا پیار بچوں کے لیے بالکل فطری ہے لیکن کسی بھی وجہ سے کچھ بچے اس پیارسے محروم رہ جاتے ہیں یا انہیں ویسا نہیں مل پاتا جیساہر بچے کو ملنا چاہیے۔ نتیجہ بڑے ہو کر وہ بچہ دنیا سے پیار چھینتا ہے یا پیار کرنا نہیں جانتا۔ آپ نیچے دیئے گئے آئینہمیں اپنی شکل تلاش کریں۔آپ نے یہ واقعہ تو سنا ہوگا کہ ایک شخص نے اپنے باپ کی بیماری سے تنگ آکر اسے ایک دن اٹھایا اور لے کر دریا کے کنارے پہنچ گیا۔ جب وہ اسے پھینکنے لگا تو باپ نے کہا۔ بیٹے مجھے تھوڑا آگے کر کے پھینکو۔ بیٹے نے وجہ پوچھی تو باپ بولا کہ اس جگہ میں نے اپنے باپ کو پھینکا تھا۔ 

ایک ماں چار بچوں کو پالتی ہے لیکن چار بچے مل کر بھی ایک ماں کو نہیں پال سکتے۔یہ سلسلہ اسی وقت رُکے گا جب آپ آئینہ دیکھیں گے۔ آئیے اپنے کل کی فکر چھوڑیں اور اپنے آج کو بہتر کریں۔ہمارا آج ہی ہمارا کل ہے۔ اگر آج ہم نے بہتر کرلیا تو ہمارا کل خود بخود بہتر ہوجائے گا۔ اسی امید و دعا کے ساتھ کہ آئینہ دیکھتے رہیں گے اور برا نہیں مانیں گے۔ 
عمر بھر ہم یونہی غلطی کرتے رہے غالبؔ
       دُھول چہرے پر تھی، ہم آئینہ صاف کرتے رہے

  

Share This With Friends......

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.

This Content Originally Published by a member of VU Students.

+ Prohibited Content On Site + Report a violation + Report an Issue


..How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?..


Views: 418

See Your Saved Posts Timeline

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by +"Megha butt" on December 19, 2015 at 8:02am
Comment by Wafa Ghazal [MSBA 2nd Semester] on December 19, 2015 at 7:53am

Comment by +"Megha butt" on December 14, 2015 at 3:37pm
Comment by شیراز on December 12, 2015 at 5:48pm

                                                             دھول چہرے پے تھی،،، اور ھم آئینہ صاف کرتے رھے

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service