We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

ایک استاد تھا وہ اکثر اپنے شاگردوں سے کہا کرتا تھا کہ یہ دین بڑا قیمتی ہے۔ ایک روز ایک طالب علم کا جوتا پھٹ گیا۔ وہ موچی کے پاس گیا اور کہا: میرا جوتا مرمت کردو۔ اس کے بدلہ میں ، میں تمہیں دین کا ایک مسئلہ بتاؤں گا۔
موچی نے کہا :اپنا مسئلہ رکھ اپنے پاس۔ مجھے پیسے دے۔
طالبِ علم نے کہا :میرے پاس پیسے تونہیں ہیں۔
موچی کسی صورت نہ مانا۔ اور بغیر پیسے کے جوتا مرمت نہ کیا۔طالبِ علم اپنے استاد کے پاس گیا اور سارا واقعہ سُنا کر کہا:
لوگوں کے نزدیک دین کی قیمت کچھ بھی نہیں۔ استاد عقل مند تھے: طالبِ علم سے کہا:
اچھا تم ایسا کرو: میں تمہیں ایک موتی دیتا ہوں تم سبزی منڈی جا کر اس کی قیمت معلوم کرو۔
وہ طالبِ علم موتی لے کر سبزی منڈی پہنچا اور ایک سبزی فروش سے کہا:
اس موتی کی قیمت لگاؤ۔اس نے کہا کہ تم اس کے بدلےیہاں سے دو تین لیموں اُٹھا لو۔اس موتی سے میرے بچے کھیلیں گے۔ وہ بچہ استاد کے پاس آیا اور کہا: اس موتی کی قیمت دو یا تین لیموں ہے۔
استاد نے کہا:
اچھا اب تم اس کی قیمت سُنار سے معلوم کرو۔وہ گیا اور پہلی ہی دکان پر جب اس نے موتی دکھایا تو دکان دار حیران رہ گیا۔
اس نے کہا اگر تم میری پوری دکان بھی لے لو تو بھی اس موتی کی قیمت پوری نہ ہوگی۔ طالبِ علم نے اپنے استاد کے پاس آکر ماجرا سُنایا۔ استاد نے کہا:
بچے! ہر چیز کی قیمت اس کی منڈی میں لگتی ہے۔ دین کی قیمت اللہ کی منڈی میں لگتی ہے۔اس قیمت کو اہلِ علم ہی سمجھتے ہیں۔ جاہل کیا جانے دین کی قیمت کیا ہے ۔

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.

..How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?..


See Your Saved Posts Timeline

Views: 224

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by + Afeefa Tehseen on March 1, 2016 at 1:10pm

awesome post 

Comment by Imaan Yousaf on February 10, 2016 at 9:30pm

Great sharing ....

Jazak Allah...

Comment by °ƻαɦɤα° on February 10, 2016 at 6:34am

Jazak Allah

Comment by شیراز on February 10, 2016 at 1:20am

yes,,,aallaa post,,,

Comment by °ƻαɦɤα° on February 7, 2016 at 9:16pm

بجا فرمایا سروش سسٹر۔

اس عارضی دنیا کو ہم نے اپنا سب کچھ بنا لیا ہے۔ ہمیں تو اپنے اگلے لمحے کی بھی خبر ۔نہیں ہے

Comment by سروش on February 7, 2016 at 11:39am

ہم اس عارضی دنیا کے کچھ سالوں کی مدد سے ہمیشہ کی زندگی کا سودا کرتے ہیں اور زرا سوچیں کہ کیسا سودا کرتے ہیں؟

Comment by + ! ! ! ! ! " Muskan on February 4, 2016 at 6:07am

nice

Comment by Alishba on February 3, 2016 at 2:37pm

Very nice post

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service