Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

دو مختلف کہانیوں کے دو مختلف کرداروں کے مکالموں نے ہمیشہ مجھے اپنی گرفت میں رکھا

ایک میں کہانیکار اپنے کردار سے کہلواتا ہے کہ طوائف صرف وہ نہیں ہوتی جو اپنا جسم بیچتی ہے بلکہ وہ بھی طوائف ہے جو اپنی ادا ، اپنی مسکراہٹ ،کا استعمال کرتی ہے اپنے کسی فائدے کے لیے ۔۔۔۔۔۔ !
اور دوسرے میں کہانیکار اپنے کردار سے کہلواتی ہیں کہ مرد صرف وہ ہے جس کی موجودگی سے عورت کو یہ نہ لگے کہ کسی مرد کے سامنے کھڑی ہے
مطلب کہ مرد کسی بات سے عورت حراساں نہ ہو نا اس کی نظر سے نا اس کی بات سے نا اس کے کسی انداز سے جسے اپنے نفس پہ پورا کنٹرول ہو وہی مرد ہے ۔
ورنہ مرد اور کتے میں فرق ہی کیا ہے کتے کے منہ میں ایک ہڈی ہو بھی تو کہیں اور ہڈی کا ٹکڑا بھی نظر آجائے تو رال ٹپکاتا اس آدھی ہڈی کو ضرور منہ مارے گا۔

Views: 204

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by Grey:) on March 9, 2016 at 11:41am

thoughtful 

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service