We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات فطری طورپر مرض الموت میں ان کے گھر پر ہوئی تھی ۔

بسم الله الرحمن الرحیم
سب طرح کی تعریفیں الله تعالٰی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے . الله اکیلا ساری کائنات کا خالق اور مالک ہے . الله بے نیاز ہے ،سب الله کے محتاج ہیں . الله کی برابری کا کوئی نہیں ہے اور درود و سلام ہو الله کے تمام رسولوں پر امابعد کہ بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین سیرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت ہے اور سارے کاموں میں بدترین کام نئے نئے طریقے ہیں (یعنی دین کے نام سے نئے طریقے جاری کرنا) اور ہر بدعت گمراہی ہے .
قارئین ! آج کل فرقہ شیعہ نے جو کہ کفر میں بہت آگے نکل چکا ہے ایک جھوٹ پھیلا رکھا ہے کہ مومنوں کی ماں امی عائشہ رضی اللہ عنہا کو شہید کیا گیا اور اس سلسلہ میں انہوں نے ایک جھوٹی روایت بنا لی ہے جوکہ حضرت معاویہ پر بہتان ہے . وہ کچھ اس طرح ہے. معاویہ رضی اللہ عنہ پر الزام یہ ہے کہ انہوں نے ایک گڈھا کھدوایا اوراس کے اوپر سے اسے چھپا کر وہاں پر اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کو بلوایا اماں عائشہ رضی اللہ عنہا وہاں پہچنچی تو گڈھے میں گرگئی اور ان کی وفات ہوگئیں ۔
اس جھوٹ اوربہتان کے برعکس بخاری کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی فطری وفات ہوئی تھی کیونکہ اگر گڈھے میں گر کر وفات ہوگئی ہوتی تو پھر وفات سے قبل لوگوں کی آمدورفت کا سلسلہ نہ ہوتا اسی طرح اجازت وغیرہ کا ذکر بھی نہ ہوتا کیونکہ یہ صورت حال اسی وقت ہوتی ہے جب کسی کی وفات اس کے گھر میں فطری طور پر ہو۔اور ایک روایت میں تو صاف امی عائشہ کی بیماری کا ذکر ہے . احادیث ملاحضہ کریں .
حَدَّثَنِا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ عَائِشَةَ اشْتَکَتْ فَجَائَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تَقْدَمِينَ عَلَی فَرَطِ صِدْقٍ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَی أَبِي بَکْرٍ
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1007
محمد بن بشار عبدالوہاب ابن عون حضرت قاسم بن محمد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) بیمار پڑیں تو حضرت ابن عباس (رض) نے آ کر کہا کہ اے ام المومنین تم سچے ہر اول یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر صدیق کے پاس جا رہی ہو۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَبْلَ مَوْتِهَا عَلَی عَائِشَةَ وَهِيَ مَغْلُوبَةٌ قَالَتْ أَخْشَی أَنْ يُثْنِيَ عَلَيَّ فَقِيلَ ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ وُجُوهِ الْمُسْلِمِينَ قَالَتْ ائْذَنُوا لَهُ فَقَالَ کَيْفَ تَجِدِينَکِ قَالَتْ بِخَيْرٍ إِنْ اتَّقَيْتُ قَالَ فَأَنْتِ بِخَيْرٍ إِنْ شَائَ اللَّهُ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْکِحْ بِکْرًا غَيْرَکِ وَنَزَلَ عُذْرُکِ مِنْ السَّمَائِ وَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ خِلَافَهُ فَقَالَتْ دَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَثْنَی عَلَيَّ وَوَدِدْتُ أَنِّي کُنْتُ نِسْيًا مَنْسِيًّا
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1952
محمد بن مثنیٰ، یحیی بن سعید بن ابی حسین، ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ (رض) کی حالت بہت خراب ہو رہی تھی یعنی عالم نزع تھا کہ حضرت ابن عباس (رض) نے ملنے کی اجازت مانگی حضرت عائشہ (رض) نے کچھ تامل کیا! اس خوف سے کہ وہ میری تعریف کریں گے۔ آخر سب نے کہا کہ اجازت دینا چاہئے کہ یہ سب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا زاد بھائی ہیں اور بہت نیک ہیں ابن عباس آئے اور حال دریافت کیا حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اگر میں نیک ہوں تو اچھی ہوں ابن عباس نے کہا کہ آپ ضرور اچھی ہیں کیونکہ رسول پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ ہیں آپ نے بجز تمہارے کسی کنواری سے شادی نہیں کی آپ کے حق میں اللہ نے آیات نازل کیں اس کے بعد حضرت ابن زبیر (رض) کو دیکھنے آئے تو حضرت عائشہ (رض) نے ان سے فرمایا کہ ابن عباس آئے تھے اور بہت تعریف کر رہے تھے مگر مجھے تو یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ میں گمنام اور بھولی بسری ہوتی۔

قارئین ! ان روایات نے شیعہ فرقے کے جھوٹ کو کچل دیا ہے .
یہ روایات اس بات کی زبردست دلیل ہیں کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات فطری طورپر مرض الموت میں ان کے گھر پر ہوئی تھی ۔
الله ہمیں ان جاہلوں کے شر سے محفوظ فرماۓ جو مسلمین کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں . الله مسلمین کو اسلام میں پورا پورا داخل کر کے عمل کی توفیق عطا فرماۓ آمین ،

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.

..How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?..


See Your Saved Posts Timeline

Views: 174

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service