We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>


Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

عادل صاحب کی بیٹی کی شادی تھی ۔

عادل صاحب کی بیٹی کی شادی تھی ۔ ۔عادل صاحب برسوں گاوں چھوڑ کر شہر آ بسے تھے ۔ سرکاری نوکری کرتے رہے ۔ اعلی افسر بن گئے ۔ گاوں سے ناطہ یوں رکھا کہ کبھی عید تہوار پہ گئے ۔ بہن بھائیوں سے ملے ۔ ۔چند گھنٹے رہے پھر لوٹ آئے ۔ ۔
باقی رابطے فون پہ تھے ۔یا شہر کوئی آتا تو انہی کے گھر ٹھہرتا ۔ ۔ذرا بدلے انداز میں بات کرتے ۔ گاوں والے جسے تعلیم کا ثمر کہتے ۔ ۔
او جی اب وہ وڈے افسر ہیں جی ۔ ۔کچھ رکھ رکھاو تو ہوتا ہے نا ۔
بیٹی کی شادی گاوں کے اکخاندان میں طے کی جو بیرون ملک رہتے تھے ۔ ۔ ۔
منگنی کے ساتھ شادی کی تاریخ بھی رکھ دی گئ ۔
گاوں خبر پہنچی تو شادیانے بج گئے ۔ان کے رشتہ دار اس میں مصروف ہو گئے کہ گاوں کی کون سی حویلی میں شادی کی تقریبات رکھی جائیں ۔ گھر ان کا اپنا بھی تھا وہاں ۔ پر چھوٹا تھا ۔
ان کا اچھا خاصا خاندان بستا تھا وہاں ۔ سب نے اپنے اپنے گھر شادی کے لیے دینے کا کہا
مگر ۔ ۔ ۔ عادل صاحب انکار کر دیا ۔ کہ وہ شادی گاوں سے تیس کلومیٹر دور چھوٹے سے شہر کے پرفصا مقام پر کریں گئے ہوٹل بک کروائیں گئے ۔
بڑے بوڑھے سمجھانے لگے کہ تم واقعی بڑے آدمی بن گئے ہو ۔ پر برادری کو کوئی چھوڑتا ۔ ۔آسمان کو چھو ہی کیوں نہ لیا جائے لیکن دھرتی سے جڑا رہنا چاہیے ۔
گاوں میں کرو شادی اتنے بڑے بڑے گھر ہیں ۔ کسی ایک میں رکھ لو کون سے غیر ہیں ۔اگر دوست احباب نے آنا ہے تعداد ذیادہ ہے تو ٹینٹ لگوا لیتے ہیں ۔
پر وہ نہ مانے کہنے لگے میں کسی کا احسان نہیں لینا چاہتا ۔پھر گاوں میں سہولتیں کہاں ۔ روڈ پہ ٹوٹا پڑا شہر سے یار دوست آنے ہیں ۔ اس کے علاوہ شادی میں بندوں کی تعداد ذیادہ ہے میں کہاں کہاں رکھوں گا کس کس کو تکلیف دوں گا میرا اپنا گھر تو چھوٹا ہے
مطلب صاف تھا ۔ گاوں کا چھوہر اب شہری بابو بن چکا تھا ۔
برادری خاندان جائے بھاڑ میں شہر کے لوگوں سے واسطہ ہے ان کا خیال رکھنا چاہیے ۔
بڑے بوڑھوں نے اک اور کوشش کی
کہ جن کو لڑکی دے رہے ہو وہ بھی تمہارے طرح پردیسی ہیں ان کا بھی گھر ویران پڑا ہے پر شادی وہ گاوں میں کر رہے ہیں ۔
لیکن عادل صاحب نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ نہ میں آپ کو سمجھا سکتا ہوں ۔نہ سمجھ سکتا ہوں ۔
خوشی کافور ہو گئ ۔اب رسم تھی ۔ بھلا برادری کے غریب غربے اتنی سکت کہاں رکھتے کہ شہر میں گاڑیاں لے کر جاتے ۔شادی گاوں میں ہوتی تو ہزار دو ہزار کی بھاجی ۔ ۔کا خرچا تھا اب شہر کون جائے سپیشل گاڑی لے کر ۔
مزید مشکل عادل صاحب کے حکم نے پیدا کر دی ۔
کہ شہر کے لوگ آئیں گئے آپ سب ذرا ڈھنگ سے تیار ہو کر آئیں ۔
ڈھنگ سے تیار ہونے میں خرچا ہوتا تھا ۔ کسی نے کیا ذیادہ ہاتھ جھٹک کے بیٹھ گئے کیا کرتے ۔ شادی کا سوٹ ایک ہی تھا ۔ شادی والے دن پہنتے پھر دھو کر رکھ لیتے اگلی شادی کے لیے صاف ستھرا ہوتا تھا پرانا تو نظر آتا تھا ۔ ۔
کئ تو اس وجہ سے نہیں گئے کہ ایسا نہ ہو کوئی پینڈو قسم کی حرکت ہو جاثے اور عادل صاحب ناراض ہو جائیں ۔
بڑے بوڑھوں نے شرکت کی لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ عادل تم نے اچھا نہیں کیا ۔ اک دن تجھے یاد آئے گا ۔عادل صاحب مسکرا کر رہ گئے ۔ ۔
شادی ہو گئ ۔ ۔ ۔ عادل صاحب بیٹی گاوں میں چھوڑ کر شہر آگئے ۔ ۔دولہا دلہن چند رہے پھر وہ بھی پردیس چلے گئے
خاموشی ہو گئ ۔
عادل صاحب نے نوٹ کیا ۔ کہ شادی کے بعد ۔ خاندان برادری کی محبت میں کمی آئی تھی ۔ کوئی شہر آتا تو رابطہ نہ کرتا ۔گاوں کی سوغاتیں بند تو نہیں ہوئیں پر کم ضرور ہو گئ ۔ ۔وہ مکھن دیسی گھی اور شہد کے عادی تھے یہ پہلے بن مانگے آتا تھا اب یاد دلانا پڑتا ۔
انہوں نے بھی شکر کیا ۔ چلو جان چھوٹی ۔ ۔ایویں پینڈو لوگ ۔
زندگی گزرتی رہی ۔
دو سال گزرے تھے کہ عادل صاحب کی اماں حضور چل بسیں ۔ وصیت تھی ان کی کہ گاوں میں دفن کرنا میرے شوہر کے پہلو میں ۔سو عمل کیا ۔
رات کو فون کھڑکا دیا ۔
اماں فوت ہو گئ ہیں ۔میں میت لے کر گاوں آ رہا ہوں ۔
چاچا شیر جنگ نے خاموشی سے سنا ۔
گھر صاف کرا دیجیے کوئی اور بڑی حویلی بھی ۔ شہر کے لوگ بھی آئیں گئے میت ذیادہ دیر رکھنا ٹھیک نہیں دن گیارہ بجے جنازہ کرادیں گئے قبر تیار کروائیے ۔ ۔
چاچا شیر جنگ خاموش رہے ۔
چاچا آپ بولتے کیوں نہیں ۔
چاچا بولے ۔
پتر ۔ میں بھیجتا ہوں اکرم کو ہوٹل بک کرواتا ہوں ۔شہر کے لوگوں نے آنا ہے گاوں کی سڑک ٹوٹی پھوٹی ۔ گھر اونچے نیچے ۔ سہولتیں نہیں ۔ کس کس گھر میں ٹھہرائیں گئے ۔ کیا پتا کتنی لوگ آئیں ۔ ۔تکلیف ہو گئ لوگوں کو بابووں کو
شہر میں جنازے کراتے ہیں ہوٹل میں میت رکھتے ہیں گورگن بلاتے ہیں شہر سے گاوں کے جائل لوگ خدا جانے کیسی قبر تیار کریں
شہر میں جنازہ کرا کے گاوں لے آئیں گئے میت ۔
عادل صاحب خاموش تھے ۔
کہنے کے لیے تھا بھی کیا ۔ ۔ ۔
پینڈو بوڑھا وہ سبق دے رہا تھا جو کسی نے نہیں دیا ۔ ۔سمجھ آگیا ۔
دھرتی سے جڑا رہنا چاہیے ۔
خاموش دونوں طرف ۔ ۔دونوں خاموش ۔ ۔کون بولے ہار تھی یا جیت ۔ ۔
پھر عادل صاحب ہار گئے ۔ ۔
رو پڑے ۔ چاچا میری غلطی تھی ۔ ۔
پتر عادل تم بے فکر ہو کے آ جاو میں سب انتظام کرواتا ہوں.

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.

..How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?..


See Your Saved Posts Timeline

Views: 84

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Latest Activity

Zahid posted a status
"copy quiz k liye koye or extension hai yeah mth pe work ni karti kya? http://bit.ly/31LSltr"
3 minutes ago
+! ! ! "Tooba" and AHMAD MURTAZA are now friends
6 minutes ago
Zahid commented on Shehroz Ahmed's blog post How to copy Quizzes Questions from VU LMS
7 minutes ago
+!!! mano stella+ updated their profile
22 minutes ago
Tahseen replied to Mani Siddiqui BS VII's discussion takabur
38 minutes ago
Smiley Girl updated their profile
1 hour ago
Priya updated their profile
1 hour ago
Lucky added a discussion to the group MGT602 Entrepreneurship
1 hour ago

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service