We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.

حضرت اویس قرنی علیہ السلام کون تھے بہت ہی برگزیدہ ہستی

حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات سے والہانہ عشق تها یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تهے کہ "مجهے یمن کی طرف سے محبت کی نسیم آتی ہے کیونکہ وہاں میرا دوست اویس قرنی رہتا ہے" آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے روز اللہ ستر ہزار فرشتے پیدا کرےگا جن کی اشکال خواجہ اویس جیسی ہوگی اور ان کے جلوس میں خواجہ صاحب کو بہشت میں لے جایا جائےگا ساری کائنات یہ منظر دیکهے گی مگر کوئی شخص پہچان نہیں پائےگا ۔
کہ اصل خواجہ قرنی کون ہیں اللہ نے جس طرح دنیا میں انہیں لوگوں سے چهپائے رکها اسی طرح قیامت کے روز بهی ان کو غیروں کی نگاہوں سے دور اور محفوظ رکهے گا کیونکہ اللہ کا فرمان ہے کہ میرے دوست میری قبا کے نیچے رہتے ہیں اور اسی وجہ سے کوئی انہیں پہچان نہیں سکتا خواجہ اویس قرنی کو ماسوائے چند ایک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کسی نے نہیں دیکها
خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ طلوع اسلام سے پہلے اس دنیا میں تشریف لا چکے تهے خواجہ صاحب عہد طفولیت میں ہی والد کی شفقت سے محروم ہوگئے اس لیے ان کو بچپن میں ہی محنت مزدوری کرنا پڑی آپ لوگوں کے اونٹ چرایا کرتے تهے اجرت پہ اور اس اجرت سے اپنا اور اپنی ضعیف اور نابینا والدہ کا پیٹ پالا کرتے تهے اس کے علاوہ جو تهوڑی سی رقم بچ رہتی اس کو لوگوں میں تقسیم کر دیا کرتے تهے آپ کی زندگی کے شب و روز اسی طرح گزر رہے تهے کہ یمن تک اسلام کے نام لیوا پیدا ہوگئے جب آپ کو اسلام اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق خبر ملی تو آپ فورا اسلام لے آئے آپ کے اندر نور ہدایت کی شمع تو اللہ نے پہلے سے ہی روشن کر رکهی تهی اعلان نبوت اور اشاعت اسلام نےاس شمع ہدایت کو جلا بخشی آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دیوانے اور شیدائی بن گئے.
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ' اویس قرنی رضی اللہ عنہ کو اسلام کی دولت سے اللہ نے خود روشناس کرایا ہے اور یہ اللہ کی رحمت و فضل کا اعجاز ہے کہ وہ میرا نادیدہ عاشق صادق بن گیا' خواجہ اویس قرنی کو قرب رسول و دیدار رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بڑا اشتیاق تها مگر آپ کو چشم باطنی کے اشارے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ آنے سے روکے رکها اس کی دو وجوہات تهی ایک تو خواجہ صاحب کی والدہ ضعیف اور بصارت سے محروم تهی انهیں اکیلا چهوڑنا نا ممکن تها، دوسرے ان پہ ہر وقت جذب طاری رہتا تها اس وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خواجہ صاحب کو حکم دیا کہ آپ ہر وقت میری چشم باطنی کے سامنے ہیں لہذا آپ مدینہ آنے کی بجائے اپنی والدہ کی خدمت میں مصروف رہیں،
غزوہ احد میں کفار کے حملہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دو دانت شہید ہوگئے تمام مسلمانوں کو اس کا گہرا صدمہ ہوا مگر جس عاشق رسول نے اس صدمے کو حقیقی شکل میں محسوس کیا اس کو دنیا حضرت اویس قرنی کے نام سے جانتی ہے
خواجہ اویس قرنی فرماتے ہیں کہ' جب مجهے معلوم ہوا کہ میرے آقا سردار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دو دانت مبارک شہید ہوئے ہیں تو مجهے یہ بالکل معلوم نہ تها کے کون سے دندان مبارک شہید ہوئے مگر آپ کی موافقت نے مجهے بےچین کر دیا میں نے پہلے ایک دانت توڑا پهر مجهے خیال ہوا کہ شاید یہ والا دانت نہ ٹوٹا ہو، پهر دوسرا توڑا، پهر تیسرا توڑا جوں جوں جون موافقت شدت اختیار کرتا گیا میں دانت توڑتا چلا گیا حتی کہ سارے دانت توڑ ڈالے'
اللہ کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس عاشق دلگیر کی یہ ادا بڑی پسند آئی اور اس کے لیے کیلے کا درخت پیدا کیا کیونکہ ٹوٹے دانتوں کے ساتھ سوائے نرم کیلوں کے اور کوئی چیز کهانا ممکن نہ تهی-
خرقہ ملنے کا شرف!!!
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وقت وصال پوچها کہ آپ کا خرقہ ہم کس کو دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اویس قرنی کو، اس مقصد کی بجا آوری کے لئے حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کوفہ تشریف لے گئے اور جمعہ کی نماز کے خطبہ میں کہا "مسجد میں نجد سے تعلق رکهنے والے جتنے لوگ ہیں سب کهڑے ہو جائیں" چناچہ اہل نجد کهڑے ہوگئے ان سے پوچها گیا کہ قرن شہر میں کوئی اویس قرنی نام خا شخص ہے؟ سب نے جواب دیا ہم اویس قرنی سے بالکل آشنا نہیں ہیں ہاں البتہ ایک دیوانہ ہے جو لوگوں سے بیزار ہوگیا ہے اور ہر وقت ویرانوں میں رہتا ہے اور آبادی کی طرف بالکل نہیں آتا حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہم نے فرمایا وہ کہاں ہے ہمیں اس سے ملواو
عرض کی گئی کہ وہ وادی عرنہ میں اونٹ چراتا ہے اور رات کو روکهی سوکهی روٹی کها کے سو رہتا ہے کسی سے بات نہیں کرتا وہ کهانا جو ہم لوگ کهاتے ہیں اس کو پسند نہیں کرتا لوگوں کو خوش دیکهتا ہے تو روتا ہے اور جب لوگ رو رہے ہو تو وہ خوش ہوتا ہے
جب حضرت عمر و حضرت علی رضی اللہ عنہم وادی عرنہ میں پہنچے تو انہوں نے دیکها کہ خواجہ اویس قرنی نماز ادا کر رہے ہیں اور ان کے اونٹوں کو فرشتے چرا رہے ہیں جب خواجہ اویس نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو "السلام علیکم" کہا جواب ملا وعلیکم السلام، حضرت علی نے آپ سے نام پوچها تو جواب دیا کہ میرا نام اللہ کا بندہ ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےکہا کہ اللہ کے بندے تو ہم سب ہیں آپ اپنا خاص نام بتائیے خواجہ صاحب بولے میرا نام اویس ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر وہ نشان دیکها جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زکر فرمایا تها کہ وہ نشان اویس کی شناخت کی علامت ہوگا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب وہ نشان علامت خواجہ اویس کے ہاتھ پہ دیکها تو ان کے ہاتھ پہ بوسہ دیا اور کہا کہ اے اویس قرنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور ساتھ یہ مرقع بهی عنایت فرمایا ہے اور وصیت فرمائی ہے کہ آپ امت محمدیہ کی بخشش کے لیے دعا کریں
خواجہ اویس قرنی نے فرمایا کہ اے عمر و علی رضی اللہ عنہ آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رفیق خاص ہیں اور مجھ سو اولی ہیں دعا تو آپ لوگ کریں کیونکہ آپ کا مرتبہ اللہ کے دربار میں بلند ہے حضرت عمر و حضرت علی رضی اللہ عنہم یک زبان ہو کے بولے ہم تو دعا کرتے ہیں مگر آپ بموجب وصیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم امت محمدیہ کے لئے دعا فرمایئے-
خواجہ اویس قرنی نے پهر کہا کہ اے عمر و علی رضی اللہ عنہم! آپ غور کر لیجیئے شاید میں اویس نہ ہوں وہ کوئی اور ہو جس کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اویس! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کے متعلق دو نشان بتائے تهے ایک نشان منہ کے دائیں طرف اور ویسا ہی نشان دائیں ہاتھ پر ہوگا جلے ہوئے یا چنبل کے نشان کی مانند، اور وہ دونوں نشان آپکے منہ اور ہاتھ پر موجود ہیں لہذا ہماری پہچان، شناخت اور پہنچ بالکل درست ہے
خواجہ اویس نے حضرت عمر و حضرت علی رضی اللہ عنہم سے کہا لائیے وہ مرقع مجهے عطا کیجئے تاکہ میں حسب حکم آقا دعا کروں، جب ان کو مرقع دیا گیا تو وہ حضرت عمر و علی رضی اللہ عنہم سے کچھ فاصلے پر چلے گئے اور زمین پر سجدہ ریز ہو کر بارگاہ ایزدی میں عرض کی، اے رب العالمین میں اس وقت تک یہ مرقع نہ پہنوں گا جب تک تو سرکار دو عالم کی ساری امت کو میری سفارش پر بخش نہ دےگا کیونکہ پیغمبر اسلام نے یہ مرقع مجهے عطا کیا ہے اور فاروق و مرتضی رضی اللہ عنہم نے مجھ تک پہنچانے تک کے فرائض انجام دیے ہیں اب تیرا کام ہے کہ تو میری دعا سن لے اور قبول کرے
اللہ نے فرمایا اویس! ہم نے تیری دعا کی برکت سے چند اشخاص کو تیری سفارش پر بخش دیا ہے آپ نے پهر عرض کی یا باری تعالی جب تک تو سب کو نہیں بخشے گا میں یہ مرقع نہیں پہنوں گا، ندا آئی میں نے کئی ہزار افراد بخش دیے، عرض کی مولا میں سب کو بخشوانا چاہتا ہوں ابهی یہ کہہ سن ہو رہی تهی کہ حضرت عمر و علی رضی اللہ عنہم آپ کے قریب چلے گئے آپ دونوں کو خواجہ اویس نے کہا آپ لوگ یہاں کیوں آگئے ہیں میرا اور اللہ کا سلسلہ جاری تها آپ لوگوں کی آمد نہ ہوتی تو میں نے اس وقت تک یہ مرقع نہیں پہننا تها جب تک اپنے آقا کی ساری امت کو نہ بخشوا لیتا اور مجهے پورا یقین تها کہ اللہ نے میری سفارش پہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت کے ہر فرد کو بخش دینا تها-
دست غیب سے روٹی کا ملنا
ایک مرتبہ خواجہ اویس قرنی تین روز سے بهوکے تهے آپ کے پاس کهانے کے لئیے کوئی چیز نہ تهی اور نہ ہی کوئی پیسہ تها اچانک آپ کو ایک درہم ملا آپ نے خیال کیا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ درہم کسی کا گرا ہو چنانچہ آپ نے درہم کو وہیں پڑا رہنے دیا اور آگے چل دیے آپ نے سوچا کہ اگر کوئی چیز کهانے کو نہیں ملتی تو گهاس ہی کها لیتا ہوں ابهی یہ سوچ رہے تهے کہ ایک بهیڑ کو دیکها جو ایک گرما گرم روٹی لا رہی تهی بهیڑ نے روٹی آپ کے آگے کر دئ آپ نے سوچا کہ شاید یہ روٹی کسی اور کی ملکیت ہو اس لیے آپ نے روٹی کو ہاتھ نہ لگایا اس بهیڑ نے زبان حال سے عرض کیا اے اویس قرنی جس اللہ کا تو بندہ ہے میں بهی اسی کی مخلوق ہوں اور تو اللہ پر یقین کر کہ اس نے یہ روٹی خود بهجوائی ہے یہ سنتے ہی خواجہ اویس قرنی نے روٹی کهانی شروع کر دی آپ فرماتے کہ جس نے اللہ کو پہچان لیا اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی
اور اللہ کو پہچانے والے ہی عارف و زاہد ہیں غرضیکہ جو شخص اللہ کا بندہ بن جاتا ہے اس پر ہر چیز واضح اور ارفع ہو جاتی ہے تاکہ اس کو دنیا کی کسی چیز کے متعلق جاننے میں دقت نہ ہو مگر اللہ یہ بلند مقام صرف اویس قرنی جیسی شخصیات کو عطا کرتا ہے
حضرت اویس قرنی کا زہد
مشہور صحابی حضرت ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں اویس قرنی کی زیارت کو گیا تو میں نے انہیں فجر کی نماز میں مشغول پایا نماز سے فارغ ہوئے تو اپنے درود و وظائف میں مصروف ہو گئے یہاں تک کہ ظہر کا وقت ہوگیا ہهر یکے بعد دیگرے تمام نمازوں اور ذکر الہی میں ایسے مگن ہوئے کہ ساری رات گزر گئی میں ان کا بغور مشاہدہ کرتا رہا اس طرح تین دن گزر گئے میں نے دیکها اور حیران رہ گیا کہ ان تین دن اور راتوں میں حضرت نے نہ کچھ کهایا نہ پیا بلکہ عبادت میں مشغول رہے اور لمحہ بهر کے لیے بهی آرام نہ کیا چوتهی رات کو آپ نے تهوڑی دیر کے لیے سوئے اور کچھ کهانا بهی کهایا پهر استغفار کرنے لگے کہ یا الہی میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں میں نیند اور بهوک کے غلبے میں مبتلا ہوا ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خواجہ اویس قرنی نے راتوں کو تقسیم کیا ہوا تها ایک رات میں سجدہ کرتے تو پوری رات سجدہ میں ہی گزار دیتے اور اگر رکوع کرتے تو شب بهر رکوع کی حالت میں ہی کهڑے رہتے کسی رات کو قیام میں بسر کرتے غرضیکہ ہر رات کو دوسری رات کی طرح زندہ رکهتے تهے-
خواجہ اویس قرنی رحمتہ اللہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیجا کہ اگر آپ کی اجازت ہو تو میں کوفہ کے گورنر کو لکهوں کہ وہ آپ کا خاص خیال رکهے خواجہ صاحب نے جواب دیا کہ میں خصوصیت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے سخت خلاف ہوں مجهے کسی چیز کی حاجت نہیں میرا ہاتھ حاجت روا کے ہاتھ میں ہے مجهے تو بس یاد الہی سے غرض ہے وہ میں کر رہا ہوں اور کوئی چیز درکار نہیں اس کے بعد آپ نے کوفہ بهی چهوڑ دیا اور کسی اور علاقے میں نکل گئے جہاں آپ کو کوئی تلاش نہ کر سکے
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دیدار کا شوق
ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ اویس قرنی کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دیدار کا شوق اس قدر پیدا ہوا کہ انهوں نے مدینہ آنے کا ارادہ کیا اب ادهر انهوں نے ارادہ کیا اور وہاں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی غزوہ میں شرکت کے لیے مدینہ سے باہر جانا پڑا لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ میرے جانے کے بعد شاید کوئی مہمان آئے اگر وہ یہاں آئے تو اس کی خوب خاطر مدارت کی جائے اور ہر طرح سے خیال رکها جائے کیونکہ وہ بڑا پارسا انسان ہے اور میرے آنے تک اس کو روکنے کی کوشش کی جائے اور اگر وہ نہ رکنا چاہے تو اس کو مجبور نہ کیا جائے مگر اس کی شکل و صورت یاد کر لی جائے یہ ہدایت دے کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ کے لیے روانہ ہو گئے بعد میں اویس قرنی مدینہ تشریف لائے مگر جب انہیں پتہ لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ میں موجود نہیں تو انهوں نے اسی وقت واپسی کا قصد کیا ان کو روکنے کی بڑی کوشش کی گئی مگر وہ نہ رکے اور نہ ہی کسی قسم کی خاطر کروائی اور واپس لوٹ گئے جب آپ صلی اللہ علیی و آلہ وسلم واپس تشریف لائے تو آتے ہی انهوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا کوئی مہمان آیا تها ام المومینن رضی اللہ عنہا نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک شخص جو کہ یمن سے آیا تها اس کی شکل و صورت چرواہوں جیسی تهی آپ کو نہ پا کر وہ ایک لمحہ بهی نہ ٹهرا اور چلا گیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہا کی عائشہ رضی اللہ عنہا پتہ ہے وہ کون تها؟ عرض کی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں بالکل نہیں جانتی، فرمایا وہ اویس قرنی تها جو میرے دیدار کے لیے یہاں آیا تها اور دیدار کی حسرت دل میں لیے ہی واپس چلا گیا اور وہ ٹهر بهی نہیں سکتا تها کہ اس کی ماں ہے جو کہ بوڑهی اور آنکهوں سے معذور ہے اس کی نگہداشت کرنے والا کوئی نہیں ہے اس لیے اس کو ہر حال میں واپس جانا تها اور یہ وہ شخص ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سچا چاہنے والا ہے جس کو صرف یاد الہی سے غرض ہے اور وہ کسی چیز سے نہ مرعوب ہے نہ متاثر، اویس قرنی میرا عاشق ہے اور اللہ اس سے محبت کرتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب یہ باتیں سنیں تو ان کو خواجہ اویس قرنی کے مقام پہ رشک آنے لگا اور فرمانے لگیں اے اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ شخص واقعی کس قدر عظیم ہوگا کہ جس کے زہد اور تقوی اور عبادت و ریاضت کی تعریف اللہ اور اس کا حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کرے ۔۔
• حوالہ جات :
تذکرہ الاولیا ، انوار الاولیا ، کشف المحجوب

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 207

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by Yasir ashraf on February 15, 2017 at 1:11am

Thanks a lot for all

Comment by Huma Mughal on February 13, 2017 at 5:11pm
SubhanAllah
Jazakallah
Very nice sharing beautiful :)

© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.