.... How to Find Your Subject Study Group & Join ....   .... Find Your Subject Study Group & Join ....  

We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Study Groups By Subject code Wise (Click Below on your university link & Join Your Subject Group)

[ + VU Study Groups Subject Code Wise ]  [ + COMSATS Virtual Campus Study Groups Subject Code Wise ]

Looking For Something at vustudents.ning.com? Search Here

اس نے کہا: تم "بے نیاز" ہوجاو۔۔ جیسے خدا "بے نیاز" ہے
میں نے کہا: میں خدا نہیں۔۔ انسان ہوں
اس نے کہا: یقینا انسان خدا نہیں ہے۔ وہ محدود ہے۔۔ لیکن وہ خدا کی کئی صفات کو اپنا کر اپنی شخصیت سنوار سکتا ہے۔۔ جیسے خدا رحم فرماتا ہے۔۔ انسان بھی رحم کرسکتا ہے۔ 
میں نے کہا: لیکن انسان کے رحم کرنے میں اور خدا کی صفت رحمت میں بہت بڑا فرق ہے
اس نے کہا: فرق ہے۔۔ ایک سمندر اور ندی میں جتنا فرق ہے اس سے بھی زیادہ بڑا فرق ہے لیکن دونوں میں بہتا تو پانی ہی ہے نا۔ 
میں نے کہا: کیا انسان خدا کی طرح بے نیاز ہوسکتا ہے؟ 
اس نے کہا: تم بے نیازی کو سمجھتے کیا ہو؟
میں نے چند لمحے سوچ کر کہا: بے نیاز ہوجانے سے مراد ہے کہ کچھ بھی ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
اس نے مسکراتے ہوئے کہا: یہ تو بے پروائی بھی کہلائی جاسکتی ہے اور بے حسی بھی۔۔ سنو!۔۔سنو!۔۔۔۔ تم بے نیازی کو سمجھنا چاہتے ہو تو پہلے "بے پروائی۔۔۔لاپروائی۔۔بے حسی۔۔اور لاعلمی" ان چاروں کو سمجھو اور سمجھ کے انہیں ایک طرف پھینک دو۔۔۔ تمہیں "بے نیازی" سمجھ میں آجائے گی۔۔کیونکہ بے نیازی میں یہ چار کیفیات بالکل نہیں ہوتی۔ 
میرے دماغ میں روشنی سی چمک اٹھی۔۔میں نے کہا: 
ہاں بالکل۔۔ خدا بے پرواہ نہیں۔۔ کیونکہ وہ انسان سے محبت کرتا ہے۔۔ اور محبت میں بے پروائی نہیں ہوتی۔۔ خدا بے نیاز ہے۔۔ اور اس سے مراد یہ ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں۔۔ وہ انسان سے محبت کرتا ہے لیکن بدلے میں انسان کے کسی عمل کا وہ محتاج نہیں۔۔ وہ پسند فرماتا ہے کہ انسان اس کی عبادت کرے۔ لیکن اسےعبادت کی ضرورت نہیں۔ وہ عبادت کا محتاج نہیں۔
مگر کیا انسان ایسا بے نیاز ہوسکتا ہے؟ ایسا بے غرض ہوسکتا ہے۔۔ ؟ انسان جو کہ نفس کا غلام ہے۔ خواہشات کا اسیر ہے۔۔خود غرض ہے۔۔۔ اس کی فطرت میں ہے کہ وہ اپنے ہر کام کے بدلے میں "کچھ نہ کچھ" چاہتا ہے۔ ایسا انسان بے نیاز کیسے ہوسکتا ہے؟ اپنی غرض اپنی خواہشات اور اپنے مفاد کو کون چھوڑتا ہے؟ اور پھر خدا رشتوں اور ضروریات کا محتاج نہیں لیکن انسان کے اندر اس نے دو "درد" رکھے ہیں۔۔ ایک اپنا درد۔۔۔ایک دوسروں کا درد۔۔۔ انسان رشتوں کا بھی محتاج ہے اور زندگی گذارنے کے لئے ضروریات کا بھی محتاج ہے۔۔ وہ ان سب سے کیسے بے نیاز ہوسکتا ہے؟ 
اس نے کہا: یہ مشکل ہے۔۔ آسان نہیں ہے لیکن ہوسکتا ہے۔ تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کے ولیوں کی سب سے بڑی نشانی کیا ہوتی ہے؟ وہ "مطمئن" ہوتے ہیں۔ طمانیت کے اس مقام پر ہوتے ہیں جہاں اضطراب ان کا کچھ نہیں بگاڑ پاتا۔۔ 
ایک اللہ کے ولی جناب شیخ عبدالقادر کا واقعہ سنو۔۔ وہ وعظ فرمارہے تھے جب اوپر درخت سے ایک سانپ ان پر آگرا۔۔ سننے والے چیختے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے مگر شیخ اپنی جگہ مطمئن بیٹھے تھے۔ 
سانپ ان پر سے سرکتا ہوا نیچے اتر کر سامنے آیا اور بولا: 
میں اپنے اس وار سے بڑے بڑے لوگوں کو آزمایا۔۔ کچھ مجھ سے ڈرے کچھ نہیں ڈرے لیکن آپ جس مقام طمانیت پر ہیں وہاں کسی اور کو نہ پایا۔۔کہ آپ کے ظاہر تو کیا باطن میں بھی ایک زرا جنبش اضطراب پیدا ہوتی نہ دیکھی۔۔
شیخ نے فرمایا: تجھ سے کیا ڈرنا۔۔ دست قدرت میں تو ایک کیڑا ہی تو ہے۔ 
ایک توقف بعد اس نے کہا: یہ واقعہ سچا ہے یا مبالغہ آمیز حد تک جھوٹا۔ لیکن اس کے پیغام کو سمجھو۔۔ اللہ کا ولی مطمئن ہوتا ہے اور وہ اسلئے مطمئن ہوتا ہے کیونکہ وہ "اللہ کی رضا" کو تسلیم کرچکا ہوتا ہے۔ زندگی سے لے کر موت تک۔۔ اور اس بیچ ہر حادثے ہر سانحے اور ہر خوشی وغمی کو اللہ کی رضا مان لینا "طمانیت" عطا کرتا ہے۔ اور یہی طمانیت قائم ہوجائے۔۔تو "بے نیازی" کا سفر شروع ہوتا ہے۔ تم نے صحیح کہا۔۔ خدا رشتوں اور ضروریات کا محتاج نہیں لیکن انسان ہے۔۔۔ لیکن تم نے شروع میں یہ بھی کہا تھا کہ انسان خدا نہیں ہے۔۔ وہ صفت خداوندی کو اس درجہ اپنائے گا جو اس کے اختیار میں ہے۔۔ انسان کی بے نیازی رشتوں اور ضروریات سے بے نیازی نہیں ہے۔۔۔کیونکہ انسان دوسرے انسانوں سے انٹرایکشن کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔ ایسا کرنے کی کوشش کرے گا تو تنہا ہوجائے گا۔
جبکہ بے نیازی نہ تو انسان کو دوسرے انسان سے دور کرتی ہے اور نہ ہی تنہا۔۔۔ بے نیازی تو بس یہ ہے کہ تمہاری ذات کو آزاد کرنے کا نام ہے۔ "خواہشات۔۔ مفادات۔۔۔اغراض اور محتاجی سے اپنی ذات کو آزاد کردینے کا نام بے نیازی ہے۔۔۔کوئی تم سے محبت کرے یا نفرت کرے۔۔ تمہاری تعریف کرے یا تضحیک کرے۔۔۔ تمہیں اپنا بنائے یا چھوڑ دے۔۔۔ تم دوسروں کے ہر عمل کو "تسلیم" تو کرو۔۔ لیکن ان سے جدا رہو۔۔۔جیسے پانی تیل سے جدا رہتا ہے۔۔۔۔ اور تم یوں جدا رہو کہ کسی کی تعریف تمہیں مغرور نہ کرسکے کسی کی تضحیک تمہیں رلا نہ سکے۔ 
اور یہ وہ مقام ہے جہاں تمہیں ہر احساس "خالص ترین" ملے گا۔۔۔۔کیونکہ اس مقام پر جب تم کسی کے لئے کچھ چاہو گے تو وہ بے غرض ہوگا۔۔ وہ محبت ہو یا نفرت ہو۔۔ اس میں کسی صلے کی خواہش نہ ہوگی۔ کسی شے کی آرزو نہ ہوگی۔۔۔۔تم اپنی زندگی کے جس مقام پر ہو اسے تسلیم کرلو۔۔اور یہ بھی تسلیم کرلو کہ یہاں تم ہمیشہ نہیں رہو گے۔۔زندگی تمہیں لے کر آگے بڑھتی جائے گی۔۔۔۔ تسلیم تمہیں طمانیت دے گی اور طمانیت تمہیں بے نیازی عطا کرے گی۔۔۔ بے نیازی کا مقام ایک ایسی آزادی ہے جہاں تمہیں "آزادی" کا صحیح مفہوم سمجھ میں آئے گا۔

Share This With Friends......


How to Find Your Subject Study Group & Join.

Find Your Subject Study Group & Join.

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.


This Content Originally Published by a member of VU Students.

+ Prohibited Content On Site + Report a violation + Report an Issue

+ Safety Guidelines for New + Site FAQ & Rules + Safety Matters

+ Important for All Members Take a Look + Online Safety


Views: 114

See Your Saved Posts Timeline

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by + ! ❤wanderer on October 9, 2018 at 2:31pm

great  

Awlaa  discussion  fiyo  <3

Comment by سروش on August 16, 2018 at 6:42pm

آسان الفاظ میں یہ کہیں کہ اپنا نفس مار دو

توقعات نا بناؤ

یہ عشق نہیں آسان بس اتنا سمجھ لیجئے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

Donation

A quality education changes lives & start with you.

Latest Activity

Forum Categorizes

Job's & Careers (Latest Jobs)

Admissions (Latest Admissons)

Scholarship (Latest Scholarships)

Internship (Latest Internships)

VU Subject Study Groups

Other Universities/Colleges/Schools Help

    ::::::::::: More Categorizes :::::::::::

Member of The Month

© 2018   Created by + M.TariK MaliC.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service