Looking For Something at vustudents.ning.com? Search Here

 .... How to Find Your Subject Study Group & Join ....   .... Find Your Subject Study Group & Join ....  

We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Study Groups By Subject code Wise (Click Below on your university link & Join Your Subject Group)

[ + VU Study Groups Subject Code Wise ]  [ + COMSATS Virtual Campus Study Groups Subject Code Wise ]

دعا مانگنا بھی کوی چھوڑتا ہے کیا؟

’میں الله کی پناہ چاہتی ہوں شیطان مردود سے۔
الله کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان ‘ بار بار رحم کرنے والا ہے۔‘‘

النمل کی آیات میں فرمایا جا رہا تھا۔

’’یا کون ہے
جو جواب دیتا ہے لاچار کو
جب وہ اس کو پکارتا ہے
اور دور کرتا ہے ا س کی تکلیف
اور وہ بناتا ہے تم کو زمین کاجانشین ۔
کیا کوئی الله کے سوا ہے معبود ؟
کتنی کم تم نصیحت پکڑتے ہو؟‘‘
An-Naml : 62

یہ آیت دل کو ایک دم پگھلا دیتی ہے۔ں.

’’پہاڑوں ‘ نہروں‘ سمندروں اور زمین کی مثال دینے کے بعد آپ الله تعالیٰ ’’انسان ‘‘ کی بات کرتے ہیں۔’’انسان‘‘ جو قرآنِ کریم کا موضوع ہے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ انسان کو چٹان سا مضبوط ‘ سمندر سا گہرا ‘ اور زمین کی طرح پر سکون رہنا چاہیے ‘ نہروں کی طرح ہر وقت بہہ نہ جائے ‘ بلکہ سمندر کے کھارے اور میٹھے پانی کے حجاب کی طرح اپنے جذبات کو ابلنے سے روکے رکھے۔ مگر قرآن ان مضبوط چیزوں کی مثال دے کر ان سے زیادہ مضبوط مخلوق کی طرف آتا ہے لیکن اس کی سخت لاچاری والی حالت دکھاتے ہوئے ۔ انسان کے ساتھ پہلے اتنی مضبوط چیزوں کی مثال دی ‘ پھر انسان کو اتنا کمزور کیوں دکھایا اس آیت میں؟‘‘ اس کے ہاتھ لمحے بھر کو رکے ‘ لب کاٹتے ہوئے سوچا ‘ پھر سر کو خم دیا۔

’’مگر نہیں‘ کس نے کہا کہ مضطرب انسان ’’کمزور ‘‘ ہوتا ہے ۔ نہ انسان پہاڑ جیسا نہ سمندر جیسا نہ زمین جیسا ہو سکتا ہے ہر وقت۔ ہم پہ مختلف فیز آتے ہیں۔ اور جو سخت کمزور ترین لمحے میں....لاچاری اور اضطراب کے عالم میں الله سے دعا کرتا ہے ‘ اس کی مثال ان مضبوط چیزوں کے آگے دی جا رہی ہے ‘ کیونکہ دعا کرنے والا ان سے بھی زیادہ مضبوط ہوتا ہے ۔ بھلے سجدے میں گرا ہو ‘ رو رہا ہو ‘ درد سے بلک رہا ہو ‘ وہی اصل بہادر ہے۔ کیونکہ اس کا ایمان ہوتا ہے کہ الله اسے دے گا۔ چاہے لوگ کچھ بھی کہیں‘ چاہے سائینس کچھ بھی کہے ‘ اس کی امید جوان ہوتی ہے کہ الله اسے دے گا۔الله ہی سے مانگنا ہے۔ وہی اس کے دل کو سکون دے گا ‘ وہی اس کی آزمائش کو کھولے گا۔ آزمائشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے صبر اور نیک عمل کافی نہیں۔ 
دعا سب سے بڑا Catalyst ہے.

دعا کے بغیر کیا ملتا ہے؟ اور مل جائے تو رہتا ہے کیا؟ دعا الله سے بات کرنا ہے ‘ اور اسی بات نے موسی ٰ علیہ السلام کی والدہ کو یہ یقین دلایا تھا کہ اگر وہ اپنا بچہ دریا میں ڈال بھی دیں تو الله ایک دن اسے ضرور ان کے پاس پھیر لائے گا۔ اور پہلے موسی ٰ کی ماں کا دل خالی ہو گیا ‘ مگر الله نے ان کو جمائے رکھا ‘ کیونکہ الله سے تعلق نہیں توڑا تھا انہوں نے۔ الله سے بات کرنا نہیں چھوڑا۔ میری طرح نہیں کہ مصیبتوں پہ دل اتنا اچاٹ کر دیا کہ دعا مانگنی چھوڑ دی۔ ‘‘

’’دعا مانگنا بھی کوئی چھوڑتا ہے کیا؟ ایسے کوئی الله سے بات کرنا بھولتا ہے کیا؟ یہ اپنے گلٹ اور شکوؤں کی اونچی دیوار کیوں بنا لیتے ہیں ہم لوگ؟ ایسے کوئی کرتا ہے کیا؟ اور جو کرتا ہے وہ بھی تب تک سکون نہیں پائے گا جب تک واپس نہیں آئے گا۔ کچھ تو کاش الله سے بھی سیکھا ہوتا ہم نے۔ جانے والوں کو وہ روکتا نہیں ہے لیکن اگر وہ لوٹ کر آجائیں تو ان کے لئے سارے دروازے کھول دیتا ہے۔ ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچتے ہم کہ یہ جو ہم روز بروز اپنی دنیا میں ‘ شادی‘ بچوں‘ شوہر‘ کاروبار میں مصروف ہوتے جا رہے ہیں‘ کوئی جو ہم سے زیادہ بڑا نظام سنبھالے ہوئے ہے ‘ وہ ہمارے پلٹنے کا انتظار کرتا ہو گا ۔بے نیاز ہے وہ ‘ فرق اسے نہیں پڑتا ‘ مگر وہ ہمارے لئے ہم سے محبت کرتا ہے۔ ہم بھی اپنے لئے ہی اس سے محبت کرتے ہیں ویسے ۔اوراگر ہم....کبھی بھولے بھٹکے سے لوٹ آئیں تو ہم ایک کام کرتے ہیں’’دعا ‘‘ اس کو پکارنا ....اور وہ تین کام کرتا ہے. ...اس آیت کے بقول وہ تین کام کرتا ہے ....دعا کا جواب دیتا ہے. ...تکلیف کو دور کرتا ہے اور ہمیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے۔ ہم کمزوروں کو اگر کو ئی چیز اتھارٹی ‘ انصاف اور طاقت دلا سکتی ہے ‘ کنٹرول عطا کر سکتی ہے تو وہ صرف دعا ہے۔ لاچار کی لاچاری ہٹے گی ‘ تکلیف دور ہو گی ‘ تب ملے گی اس کو خلافت۔کونے میں پڑے ڈپریسڈ لوگوں کو نہیں ملتا کنٹرول۔ ہمیں سستی اور غفلت سے خود نکلنا ہوگا۔ اپنے ڈپریشن سے نکلنا ہو گا۔ اپنے گلٹ سے ‘ اپنے اندر کے اندھیروں سے....اس کے بعد ملے گا ہمیں اختیار.... کہ معاف کرتے ہیں یا سزا دیتے ہیں۔ پھر ہم دیں گے سزا جسے ہم چاہیں ‘ اور معاف کریں گے جسے ہم چاہیں ۔اور فسادیوں اور اپنے درمیان بنائیں گے ذوالقرنین کی دیوار جب ہم چاہیں۔ ایسااختیار پانے کے لئے ہمیں اپنی تکلیف سے نکلنا ہو گا ‘ اور تکلیف سے ہمیں دعا نکالے گی ۔ خواہشوں کا مل جانا نہیں نکالے گا۔ میرا یہ کام ہو جائے ‘ مجھے اتنا مال یا اولاد مل جائے تب زندگی پہ میرا ’’کنٹرول‘‘ ہوگا‘ نہیں ایسا نہیں ہوگا۔ ہمیں مضبوط اور پر اعتماد زندگی دعا سے ملے گی۔ دعا کیا کرو بچے۔ یہی تمہارے کام آئے گی۔‘‘

Share This With Friends......


How to Find Your Subject Study Group & Join.

Find Your Subject Study Group & Join.

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.


This Content Originally Published by a member of VU Students.

+ Prohibited Content On Site + Report a violation + Report an Issue

+ Safety Guidelines for New + Site FAQ & Rules + Safety Matters

+ Important for All Members Take a Look + Online Safety


Views: 89

See Your Saved Posts Timeline

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by Ali Raza on December 22, 2018 at 5:04pm

اس اپلی کیشن میں تمام پاکستانی ٹی وی ڈراموں کو دیکھیں، صرف اس اپلی کیشن فون میں ڈاؤن لوڈ کریں اور اگر آپ ایپ پسند کریں تو ہمیں 5 ستارے دیں

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.dotdev.pakistanid...

Comment by The Meg on December 19, 2018 at 4:39pm

Forum Categorizes

Job's & Careers (Latest Jobs)

Admissions (Latest Admissons)

Scholarship (Latest Scholarships)

Internship (Latest Internships)

VU Subject Study Groups

Other Universities/Colleges/Schools Help

    ::::::::::: More Categorizes :::::::::::

Member of The Month

1. zohaib iftikhar

punjab, Pakistan

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service