We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.

حضرت نظام الدین اولیاءؒ اکثر ایک جملہ کہا کرتے تھے

حضرت نظام الدین اولیاءؒ اکثر ایک جملہ کہا کرتے تھے
"ہم سے تو دھوبی کا بیٹا ہی خوش نصیب نکلا،ہم سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا"۔
اتنا فرما کر پھر غش کھا جاتے۔
ایک دن ان کے مریدوں نے پوچھ لیا:
"حضرت یہ دھوبی کے بیٹے والا کیا ماجرا ہے؟"
آپؒ نے فرمایا:
"ایک دھوبی کے پاس محل سے کپڑ ے دھلنے آیا کرتے تھے اور وہ میاں بیوی کپڑ ے دھو کر استری کرکے واپس محل پہنچا دیا کرتے تھے۔
ان کا ایک بیٹا بھی تھا۔
جو جوان ہوا تو کپڑ ے دھونے میں والدین کا ھاتھ بٹانے لگا۔
کپڑ وں میں شہزادی کے کپڑ ے بھی تھےجن کو دھوتے دھوتے وہ شہزادی کے نادیدہ عشق میں مبتلا ہو گیا۔
محبت کے اس جذبے کے جاگ جانے کے بعد اس کے اطوار تبدیل ہو گئے۔
وہ شہزادی کے کپڑے الگ کرتا،انہیں خوب اچھی طرح دھوتا،انھیں استری کرتا اور ایک خاص نرالے انداز میں تہہ کرکے رکھتا۔
سلسلہ چلتا رہا۔
آخر والدہ نے اس تبدیلی کو نوٹ کیا اور دھوبی کے کان میں کھسر پھسر کی کہ یہ تو لگتا ہے سارے خاندان کو مروائے گا۔
یہ تو شہزادی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہے۔
والد نے بیٹے کے کپڑ ے دھونے پر پابندی لگا دی۔
ادھر جب تک لڑکا محبت کے زیر اثر محبوب کی کوئی خدمت بجا لاتا تھا۔
محبت کا بخار نکلتا رہتا تھامگر جب وہ اس خدمت سے ہٹایا گیا تو لڑکا بیمار پڑ گیااور چند دن کے بعد فوت ہو گیا۔
ادھر کپڑوں کی دھلائی اور تہہ بندی کا انداز بدلا تو شہزادی نے دھوبن کو بلا بھیجااور اس سے پوچھا کہ میرے کپڑے کون دھوتا ہے؟
دھوبن نے جواب دیا: شہزادی عالیہ میں دھوتی ہوں۔
شہزادی نے کہا: پہلے کون دھوتا تھا؟
دھوبن نے کہا: میں ہی دھوتی تھی۔
شہزادی نے اسے کہا: یہ کپڑا تہہ کرو۔
اب دھوبن سے ویسے تہہ نہیں ہوتا تھا۔
شہزادی نے اسے ڈانٹا: تم جھوٹ بولتی ہو، سچ سچ بتاؤ ورنہ سزا ملے گی۔
دھوبن کے سامنے کوئی دوسرا رستہ بھی نہیں تھا۔
کچھ دل بھی غم سے بھرا ہوا تھا،وہ زار و قطار رونے لگ گئی اور سارا ماجرا شہزادی سے کہہ دیا۔
شہزادی یہ سب کچھ سن کر سناٹے میں آ گئی۔
پھر اس نے سواری تیار کرنے کا حکم دیا اور شاہی بگھی میں سوار ہو کر پھولوں کا ٹوکرا بھر کر لائی اور مقتول محبت کی قبر پر سارے پھول چڑھا دیے۔
زندگی بھر اس کا یہ معمول رہا کہ وہ اس دھوبی کے بچے کی برسی پر اس کی قبر پر پھول چڑھانے ضرور آتی۔
یہ بات سنانے کے بعد حضرت کہتے:
"اگر ایک انسان سے بن دیکھے محبت ہوسکتی ہے تو بھلا اللہ سے بن دیکھے محبت کیوں نہیں ہو سکتی؟"
ایک انسان سے محبت اگر انسان کے مزاج میں تبدیلی لا سکتی ہے اور وہ اپنی پوری صلاحیت اور محبت اس کے کپڑ ے دھونے میں بروئےکار لا سکتا ہے
تو کیا ہم لوگ اللہ سے اپنی محبت کو اس کی نماز پڑھنے میں اسی طرح دل وجان سے نہیں استعمال کر سکتے؟
مگر ہم بوجھ اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر شہزادی محبت سے تہہ شدہ کپڑوں کے انداز کو پہچان سکتی ہے تو کیا رب کریم بھی محبت سے پڑھی گئی نماز اور پیچھا چھڑانے والی نماز کو سمجھنے سے عاجز ہے؟"
حضرت نظام الدین اولیاءؒ پھر فرماتے:
وہ دھوبی کا بچہ اس وجہ سے کامیاب ہے کہ اس کی محبت کو قبول کر لیا گیا۔
جبکہ ہمارے انجام کا کوئی پتہ نہیں، قبول ہوگی یا منہ پر ماردی جائے گی۔
اللہ جس طرح ایمان اور نماز روزے کا مطالبہ کرتا ہے، اسی طرح محبت کا تقاضا بھی کرتا ہے۔
یہ کوئی مستحب نہیں فرض ہے۔مگر ہم غافل ہیں۔
پھر فرماتے: "اللہ کی قسم اگر یہ نمازیں نہ ہوتیں تو اللہ سے محبت کرنے والوں کے دل اسی طرح پھٹ جاتے جس طرح دھوبی کے بچے کا دل پھٹ گیا تھا۔
یہ ساری ساری رات کی نماز ایسے ہی نہیں پڑھی جاتی۔
کوئی جذبہ کھڑا رکھتا ہے۔
آپ فرماتے: "یہ نسخہ اللہ پاک نے اپنے نبی کے دل کی حالت دیکھ کر بتایا تھا کہ آپ نماز پڑھا کیجئےاور رات بھر ہماری باتیں دہراتے رھا کیجئے،آرام ملتا رہے گا۔"

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 50

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by Sana Sunny ツ on August 25, 2019 at 2:10pm

subhan Allah

Today Top Members 

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.