We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More


Dear Students! Share your Assignments / GDBs / Quizzes files as you receive in your LMS, So it can be discussed/solved timely. Add Discussion

How to Add New Discussion in Study Group ? Step By Step Guide Click Here.

عمر دراز مانگ کے لائے تھے

عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
یہ شعر ہماری نصابی کتابوں میں غلطی سے بہادر شاہ ظفر سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ خود میں بھی اس غلطی کا مرتکب ہو چکا ہوں۔ میری ایک تالیف ”جب میرا انتخاب نکلے گا“ کے نام سے 1995ءمیں شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب میں تین سو سالوں کی منتخب اور مشہور غزلیں شائع کی گئی تھیں ظاہر ہے اس میں بہادر شاہ ظفر کا کلام بھی شامل تھا اور کچھ نصابی کتب پر انحصار کرتے ہوئے میں نے بھی متذکرہ بالا شعر بہادر شاہ ظفر ہی کا سمجھتے ہوئے اپنے انتخاب میں شائع کر دیا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ شعر سیماب اکبر آبادی کا ہے اور ان کے شعری مجموعہ ”کلیم عجم“ میں وہ پوری غزل شامل ہے جس کا یہ ایک بہت ہی مشہور شعر ہے۔ سیماب اکبر آبادی کی کتاب ”کلیم عجم“ پہلی دفعہ 1936ءمیں شائع ہوئی تھی اور اس کتاب کا تیسرا ایڈیشن 1985ءمیں ان کے بےٹے مظہر صدیقی نے شائع کیا تھا جو اب میری ذاتی لائبریری میں بھی موجود ہے۔ سیماب اکبر آبادی کے دیوان ”کلیم عجم“ میں 1898ء سے 1908ءتک کی جو غزلیں شامل کی گئی ہیں۔ انہی میں سے ایک غزل کا وہ زبان زدعام شعر ہے جو سہواً ہم لوگ بہادر شاہ ظفر کا سمجھتے چلے آ رہے ہیں۔ ادبی رسالہ ”نگار“ کا جنوری1941ء میں جو خود نوشت نمبر شائع ہوا تھا اس میں مذکورہ بالا شعر سیماب اکبر آبادی کے نام ہی سے شامل اشاعت ہے جبکہ بہادر شاہ ظفر کے کسی مستند دیوان میں یہ شعر ان سے منسوب نہیں کیا گیا۔ اتنی زیادہ تفصیل سے لکھنے کی ضرورت مجھے اس لئے محسوس ہو رہی ہے کہ ہماری اردو کی نصابی کتب میں بھی یہ غلطی بار بار دہرائی جا رہی ہے کہ مذکورہ بالا شعر بہادر شاہ ظفر کی غزل میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ میں یہاں سیماب اکبر آبادی کے زیر بحث شعر سمیت غزل کے مزید دو اشعار کا حوالہ دینا چاہتا ہوں
تم نے تو ہاتھ جوروستم سے اٹھا لیا
اب کیا مزا رہا ستمِ روز گار میں
اے پردہ دار‘ اب تو نکل آ کہ حشر ہے
دنیا کھڑی ہوئی ہے ترے انتظار میں
عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
یہ وضاحت یہاں ضروری ہے کہ سیماب اکبر آبادی نے اپنے شعر میں ”لائے تھے“ نہیں بلکہ ”لائی تھی“ کے الفاظ استعمال کئے ہیں اگر کوئی محقق دوست بہادر شاہ ظفر کے کسی مستند دیوان کے حوالہ سے میری گزارشات کی تردید میں کچھ لکھنا پسند کریں تو مجھے بہت خوشی ہو گی۔
کالم نگار | محمد آصف بھلّی
نوائے وقت
نشرِ مقرر

+ How to Follow the New Added Discussions at Your Mail Address?

+ How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?

+ How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?

+ VU Students Reserves The Right to Delete Your Profile, If?


See Your Saved Posts Timeline

Views: 30

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

© 2020   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.