Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

وہی آہٹیں در و بام پر ، وہی رتجگوں کے عذاب ہیں

وہی آہٹیں درو بام پر وہی رتجگوں کے عذاب ہیں


وہی ادھ بجھی میرے نیند ہے وہی ادھ جلے میرے خواب ہیں

میرے سامنے یہ جو خواہشوں کی دھند حدِّ نگاہ تک
پرے اس کے جانے حقیقتیں ، کہ حقیقتوں کے سراب ہیں

میری دسترس میں کبھی تو ہوں جو ہیں گھڑیاں کیف و نشاط کی
ہے یہ کیا، کہ آہئیں ادھر کبھی تو لگے کہ پا بہ رکاب ہیں

کبھی چاہا خود کو سمیٹنا تو بکھر کے اور بھی رہ گیا
ہیں کرچی کرچی پڑے ہوئے میرے سامنے میرے خواب ہیں

یہنہ پوچھ کیسے بسر کیے ، شب و روز کتنے پہر جیئے
کسے رات دن کی تمیز تھی کسےیاد اتنے حساب ہیں

انہیں خوف رسم و رواج کا ہمیں وضع اہنی عزیز ہے
وہ روایتوں کی پناۃ میں ، ہم ان کے زیرِ عتاب ہیں

ابھی زخمِ نو کا شمار کیا ابھِی رت ہے دل کے سنگھار کی
ابھی او رپھوٹیں گی کونپلیں ابھِ اور کھلنے گلاب ہیں

Views: 168

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by حیاالایمان ღ ایس بٹ on August 4, 2013 at 7:37am

...:O

Comment by + © Malik © Kracker + on March 24, 2010 at 7:13pm
heart touching. v.nice

Looking For Something? Search Below

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service