.... How to Find Your Subject Study Group & Join ....   .... Find Your Subject Study Group & Join ....  

We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Study Groups By Subject code Wise (Click Below on your university link & Join Your Subject Group)

[ + VU Study Groups Subject Code Wise ]  [ + COMSATS Virtual Campus Study Groups Subject Code Wise ]

Looking For Something at vustudents.ning.com?Search Here

آئیڈیل


آئیڈیل کیا ہے، یہ چیز آجکل اسے پریشان کر رہی تھی۔ یہ سلسلہ تب شروع ہوا جبکالج میں ایک نئی آنے والی الٹرا ماڈرن لڑکی ندا نے اس سے دوستی کی۔چند ہی دن کی دوستی میں وہ ایک دوسرے کو کافی جاننے لگی تھیں حالانکہ عائشہ کافی سادہ مزاج کی لڑ
کی تھی۔اسے شروع میں حیرت بھی ہوتی تھی کہ اتنی امیر اور ماڈرن لڑکی نے سب کو چھوڑ کر مجھے دوست کیوں بنایا۔

ایک دن اس نے آئیڈیل کے بارے میں عائشہ سے سوال کیا۔ اس نے لاپرواہی سے جواب دیا۔ میں نےتو کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں۔ندا ہنسنے لگی۔ کتنی بیوقوف ہو تم، پھر تمہاری شادی کا کیا ہو گا؟ عائشہ حیران رہ گئی، یہ میرے سوچنے کا کام تھوڑی ہے۔ یہ تو میرے والدین کا کام ہے۔ ندا نےا سے مذاق کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ تم تو بالکل جاہلوں جیسی باتیں کرتی ہو، آج کے دور میں یہ سب کہاں ہوتا ہے۔ عائشہ نے کہا یہ سب اچھی باتیں میں نہیں ہمارے مذہب میں تو غیر مرد سے بات کرنا بھی منع ہے۔ آئیڈیل پرکھنا تو بیحد دور کی بات ہے۔ ندا نے کہا وقت بدل گیا ہے۔ اب تو لڑکیاں سمجھدار ہیں۔ اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں۔ تم بھی غور کرو تو تمہارے ارد گرد بھی کوئی نہ کوئی ضرور ہو گا جو تمہارا آئیڈیل ہوگا۔ انڈرسٹینڈنگ بڑھاؤ اور ماں باپ کو فیصلہ سنا دو۔عائشہ نے سختی سے اس بات کو رد کردیا اور صاف کہہ دیا کہ نہ تو اس نے کبھی ایسا سوچا ہے نہ ہی آئندہ وہ اس بارے میں بات کرنا چاہتی ہے۔

اس دن بات تو بظاہر ختم ہو گئی مگر دل میں اتری رہ گئی۔ وہ نادانستہ طور پر اس سوچ میں پڑ گئی کہ اسکا آئیڈیل کون ہے۔جانے کیسے اس کی نظروں میں ندا کے بھائی کا چہرہ آگیا، شاید وہی میرا آئیڈیل ہے۔سمارٹ پڑھا لکھا اور امیر۔ پھر اس نے اسی جذبے کے تحت اس کے بارے میں ندا سے پوچھنا شروع کر دیا۔ چند ہی دن میں ندا نے اس کے دل کی بات پکڑ لی اور کہہ دیا کہ اگر تم دونوں کی انڈرسٹینڈنگ ہو گئی تو میں خود تمہاری مدد کروں گی۔ عائشہ کو تو لگا کہ ایک پہاڑ سر ہو گیا مگر انڈرسٹینڈنگ کیسے ہو گی؟ ندا نے مسکراتے ہوئے کہا میں ہوں نا، یہ تم مجھ پہ چھوڑ دو۔

کچھ دن بعد ندا نے صبح صبح عائشہ سے کہا، آج میرے پاس زبردست خوشخبری ہے، آج کلاس چھوڑ دو۔ عائشہ نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ میں نے تو آج تک کوئی کلاس مس نہیں کی، ندا نے کہا کچھ نہیں ہوتا، بہت ضروری بات ہے۔ وہ اسے کینٹین میں لے گئی۔ پھر جو بات اسنے بتائی عائشہ کو اس پر یقین ہی نہ آیا۔ ندا نے کہا کہ بھائی خود بھی تمہیں آئیڈیل سمجھتا ہے اور چھٹی کے ٹائم تمہیں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ تم سے ملنا چاہتا ہے۔ ایک بار یہ پتہ چل جائے کہ تم دونوں کی انڈرسٹینڈنگ ہو سکتی ہے تو میں اگلے ہی دن مما پاپا کے ساتھ تمہارا رشتہ لینے آجاؤں گی۔ پھر تم ہمارے گھر میں راج کرو گی۔ عائشہ تو تصور میں خود کو رانی سمجھنے لگی لیکن اس بات پر پریشان ہو گئی، میں اس سے کیسے مل سکتی ہوں۔مجھے تو ابو ہی لینے اور چھوڑنے آتے ہیں۔ ندا نے کہا بس یہ مجھ پہ چھوڑ دو، بس کل تیاری سے آنا، ایک کلاس لیں گے پھر چوکیدار کو 200 روپے پکڑائیں گے اور بس کام بن جائے گا۔عائشہ نے کہا مجھے ڈر لگتا ہے۔ میں تو اس سے کبھی ملی بھی نہیں، تم بھی چلو گی؟؟ ارے نہیں بیوقوف!! میں گئی تو یہاں سب کو کون سنبھالے گا، تم میرے ساتھ ہی ہوتی ہو، جو بھی پوچھے گا کوئی بہانہ بنا دوں گی۔ اور ڈر کیسا، مجھ پر بھروسہ نہیں ہے کیا۔ یوں کل کا پروگرام بن گیا کہ دس بجے وہ نکل جائے گی اور چھٹی سے آدھا گھنٹہ پہلے واپس آجائے گی۔ پھر اگر دونوں راضی ہوئے تو اگلے ہی دن انکے رشتے کی بات ہو جائے گی۔
جب وہ اگلی کلاس سے نکلی تو اسکی ایک دوست ہما نے اسے آواز دی۔ صبح کی کلاس میں تم کہاں تھیں؟؟ وہ میں لیٹ پہنچی تھی۔ہما نے کہا میں تو تمہیں ندا کےساتھ دیکھا تھا لیٹ کب تھیں تم؟؟ویسے ندا مجھے کوئی اچھی لڑکی محسوس نہیں ہوتی اس سے بچ کے رہنا۔ عائشہ کے دل کا چور زور سے دھڑکااور وہ ہما کے ساتھ الجھ پڑی تم تو بس ندا سے جیلس ہو کیونکہ اب میں تمہارے ساتھ نہیں ہوتی۔ کلاس لینا نہ لینا میری مرضی۔ ہما نے کہا چلو تمہاری مرضی، میں تو دوست کی حیثیت سے سمجھا رہی تھی۔
اگلی صبح عائشہ کالج پہنچی تو بہت بےچین تھی۔ دماغ کہتا تھا کہ ماں باپ کو دھوکہ دینا غلط ہے اور دل کہتا تھا کہ ایک دن کا رسک اور تمام زندگی کا راج۔اسی اثنا میں ہما آگئی۔اس نے پہلو تہی کر کے گزرنا چاہا تو ہما نے اسے روک لیا۔ عائشہ تم کہیں باہر تو نہیں جا رہیں؟ عائشہ کا دل حلق میں آگیا کہ اسے کیسے پتہ چلا، تم سے کس نے کہا؟ ہما نے کہا، عائشہ میری بات دھیان سے سننا۔پہلے تو یہ دیکھو۔ وہ اسے نوٹس بورڈ کے پاس لے گئی۔وہاں لیٹ فیس کی لسٹ لگی ہوئی تھی۔ وہاں ندا کے نام کے آگے والد کے نام کے ساتھ مرحوم لکھا تھا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے، اس نے تو بتایا تھا کہ اسکے والد کی فیکٹری ہے۔ہما نے کہا اب تمہیں پتہ چلا کہ وہ تم سے جھوٹ بول رہی تھی۔ اب اصل بات سنو۔ ندا کے ساتھ باہردو لڑکے تھے دو الگ الگ بائیک پر۔وہ ان سے کہہ رہی تھی تصویریں احتیاط سے کھینچنا چہرہ ضرور آئے۔ وہ بہت بیوقوف ہے ۔میں اسے بھیج دوں گی۔ ایک بار ڈھنگ سے کام کر لیناپھر ہمیشہ ہم سے ڈر کرہماری بات مانتی رہے گی۔عائشہ کے تو ہوش اڑ گئے اس بات پر۔ کچھ تو تھا ورنہ ہما کو اس پلان کا کیا پتہ۔ ہما نے کہااس نے مجھے نہیں دیکھا تم چاہو تو گیٹ سے چیک کر لو اسکے بھائی کے ساتھ ایک اور بائیک والا لڑکا کھڑا ہے۔اس نے دیکھا تو ہما کی بات ٹھیک نکلی۔ ہما نے پوچھا، عائشہ وہ لڑکی تم تو نہیں ہو نا؟؟عائشہ نے گھبرا کر کہا، نہیں نہیں تم نےایسا کیوں سوچا؟ اسلئے کہ کل تم نے ہی اسکی باتوں میں آکر کلاس چھوڑی تھی۔ میں تو ڈر ہی گئی تھی لیکن یقین نہیں آرہا تھا کہ تم جیسی اچھے گھر کی لڑکی ایسا کر سکتی ہے۔ پتہ نہیں وہ کون لڑکی ہوگی بیچاری۔ہمیں ندا کو روکنا چاہئے۔ دونوں پرنسپل کے پاس گئیں اور ہما نے باہر والی گفتگو انہیں بتادی۔ انہوں نے پولیس کو فون کر دیا اور ان دونوں لڑکوں اور ندا کو گرفتار کر لیا گیا۔ چند ہی گھنٹے میں انہوں نے سب کچھ اگل دیا اور گینگ کے کئی اور سراغ مل گئے۔

عائشہ ہما کی کس قدراحسان مند تھی یہ وہ اسے بتا بھی نہیں سکتی تھی۔لیکن اس واقعے نے ان دونوں کی دوستی کے رشتے کو ہمیشہ کیلئے مضبوط کر دیا۔ساتھ ہی اس خیال کو بھی کہ ماں باپ کی تربیت اگر دینی بنیادوں پر ہو تو کبھی غلط نہیں ہوتی اور اگر اولاد اسکی سختی سے پیروی کرے تو کبھی نقصان نہیں اٹھا سکتی، کیونکہ دین میں ہی دنیا اور آخرت کی فلاح ہے۔
Photo: ‎آئیڈیل آئیڈیل کیا ہے، یہ چیز آجکل اسے پریشان کر رہی تھی۔ یہ سلسلہ تب شروع ہوا جبکالج میں ایک نئی آنے والی الٹرا ماڈرن لڑکی ندا نے اس سے دوستی کی۔چند ہی دن کی دوستی میں وہ ایک دوسرے کو کافی جاننے لگی تھیں حالانکہ عائشہ کافی سادہ مزاج کی لڑکی تھی۔اسے شروع میں حیرت بھی ہوتی تھی کہ اتنی امیر اور ماڈرن لڑکی نے سب کو چھوڑ کر مجھے دوست کیوں بنایا۔ ایک دن اس نے آئیڈیل کے بارے میں عائشہ سے سوال کیا۔ اس نے لاپرواہی سے جواب دیا۔ میں نےتو کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں۔ندا ہنسنے لگی۔ کتنی بیوقوف ہو تم، پھر تمہاری شادی کا کیا ہو گا؟ عائشہ حیران رہ گئی، یہ میرے سوچنے کا کام تھوڑی ہے۔ یہ تو میرے والدین کا کام ہے۔ ندا نےا سے مذاق کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ تم تو بالکل جاہلوں جیسی باتیں کرتی ہو، آج کے دور میں یہ سب کہاں ہوتا ہے۔ عائشہ نے کہا یہ سب اچھی باتیں میں نہیں ہمارے مذہب میں تو غیر مرد سے بات کرنا بھی منع ہے۔ آئیڈیل پرکھنا تو بیحد دور کی بات ہے۔ ندا نے کہا وقت بدل گیا ہے۔ اب تو لڑکیاں سمجھدار ہیں۔ اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں۔ تم بھی غور کرو تو تمہارے ارد گرد بھی کوئی نہ کوئی ضرور ہو گا جو تمہارا آئیڈیل ہوگا۔ انڈرسٹینڈنگ بڑھاؤ اور ماں باپ کو فیصلہ سنا دو۔عائشہ نے سختی سے اس بات کو رد کردیا اور صاف کہہ دیا کہ نہ تو اس نے کبھی ایسا سوچا ہے نہ ہی آئندہ وہ اس بارے میں بات کرنا چاہتی ہے۔ اس دن بات تو بظاہر ختم ہو گئی مگر دل میں اتری رہ گئی۔ وہ نادانستہ طور پر اس سوچ میں پڑ گئی کہ اسکا آئیڈیل کون ہے۔جانے کیسے اس کی نظروں میں ندا کے بھائی کا چہرہ آگیا، شاید وہی میرا آئیڈیل ہے۔سمارٹ پڑھا لکھا اور امیر۔ پھر اس نے اسی جذبے کے تحت اس کے بارے میں ندا سے پوچھنا شروع کر دیا۔ چند ہی دن میں ندا نے اس کے دل کی بات پکڑ لی اور کہہ دیا کہ اگر تم دونوں کی انڈرسٹینڈنگ ہو گئی تو میں خود تمہاری مدد کروں گی۔ عائشہ کو تو لگا کہ ایک پہاڑ سر ہو گیا مگر انڈرسٹینڈنگ کیسے ہو گی؟ ندا نے مسکراتے ہوئے کہا میں ہوں نا، یہ تم مجھ پہ چھوڑ دو۔ کچھ دن بعد ندا نے صبح صبح عائشہ سے کہا، آج میرے پاس زبردست خوشخبری ہے، آج کلاس چھوڑ دو۔ عائشہ نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ میں نے تو آج تک کوئی کلاس مس نہیں کی، ندا نے کہا کچھ نہیں ہوتا، بہت ضروری بات ہے۔ وہ اسے کینٹین میں لے گئی۔ پھر جو بات اسنے بتائی عائشہ کو اس پر یقین ہی نہ آیا۔ ندا نے کہا کہ بھائی خود بھی تمہیں آئیڈیل سمجھتا ہے اور چھٹی کے ٹائم تمہیں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ تم سے ملنا چاہتا ہے۔ ایک بار یہ پتہ چل جائے کہ تم دونوں کی انڈرسٹینڈنگ ہو سکتی ہے تو میں اگلے ہی دن مما پاپا کے ساتھ تمہارا رشتہ لینے آجاؤں گی۔ پھر تم ہمارے گھر میں راج کرو گی۔ عائشہ تو تصور میں خود کو رانی سمجھنے لگی لیکن اس بات پر پریشان ہو گئی، میں اس سے کیسے مل سکتی ہوں۔مجھے تو ابو ہی لینے اور چھوڑنے آتے ہیں۔ ندا نے کہا بس یہ مجھ پہ چھوڑ دو، بس کل تیاری سے آنا، ایک کلاس لیں گے پھر چوکیدار کو 200 روپے پکڑائیں گے اور بس کام بن جائے گا۔عائشہ نے کہا مجھے ڈر لگتا ہے۔ میں تو اس سے کبھی ملی بھی نہیں، تم بھی چلو گی؟؟ ارے نہیں بیوقوف!! میں گئی تو یہاں سب کو کون سنبھالے گا، تم میرے ساتھ ہی ہوتی ہو، جو بھی پوچھے گا کوئی بہانہ بنا دوں گی۔ اور ڈر کیسا، مجھ پر بھروسہ نہیں ہے کیا۔ یوں کل کا پروگرام بن گیا کہ دس بجے وہ نکل جائے گی اور چھٹی سے آدھا گھنٹہ پہلے واپس آجائے گی۔ پھر اگر دونوں راضی ہوئے تو اگلے ہی دن انکے رشتے کی بات ہو جائے گی۔ جب وہ اگلی کلاس سے نکلی تو اسکی ایک دوست ہما نے اسے آواز دی۔ صبح کی کلاس میں تم کہاں تھیں؟؟ وہ میں لیٹ پہنچی تھی۔ہما نے کہا میں تو تمہیں ندا کےساتھ دیکھا تھا لیٹ کب تھیں تم؟؟ویسے ندا مجھے کوئی اچھی لڑکی محسوس نہیں ہوتی اس سے بچ کے رہنا۔ عائشہ کے دل کا چور زور سے دھڑکااور وہ ہما کے ساتھ الجھ پڑی تم تو بس ندا سے جیلس ہو کیونکہ اب میں تمہارے ساتھ نہیں ہوتی۔ کلاس لینا نہ لینا میری مرضی۔ ہما نے کہا چلو تمہاری مرضی، میں تو دوست کی حیثیت سے سمجھا رہی تھی۔ اگلی صبح عائشہ کالج پہنچی تو بہت بےچین تھی۔ دماغ کہتا تھا کہ ماں باپ کو دھوکہ دینا غلط ہے اور دل کہتا تھا کہ ایک دن کا رسک اور تمام زندگی کا راج۔اسی اثنا میں ہما آگئی۔اس نے پہلو تہی کر کے گزرنا چاہا تو ہما نے اسے روک لیا۔ عائشہ تم کہیں باہر تو نہیں جا رہیں؟ عائشہ کا دل حلق میں آگیا کہ اسے کیسے پتہ چلا، تم سے کس نے کہا؟ ہما نے کہا، عائشہ میری بات دھیان سے سننا۔پہلے تو یہ دیکھو۔ وہ اسے نوٹس بورڈ کے پاس لے گئی۔وہاں لیٹ فیس کی لسٹ لگی ہوئی تھی۔ وہاں ندا کے نام کے آگے والد کے نام کے ساتھ مرحوم لکھا تھا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے، اس نے تو بتایا تھا کہ اسکے والد کی فیکٹری ہے۔ہما نے کہا اب تمہیں پتہ چلا کہ وہ تم سے جھوٹ بول رہی تھی۔ اب اصل بات سنو۔ ندا کے ساتھ باہردو لڑکے تھے دو الگ الگ بائیک پر۔وہ ان سے کہہ رہی تھی تصویریں احتیاط سے کھینچنا چہرہ ضرور آئے۔ وہ بہت بیوقوف ہے ۔میں اسے بھیج دوں گی۔ ایک بار ڈھنگ سے کام کر لیناپھر ہمیشہ ہم سے ڈر کرہماری بات مانتی رہے گی۔عائشہ کے تو ہوش اڑ گئے اس بات پر۔ کچھ تو تھا ورنہ ہما کو اس پلان کا کیا پتہ۔ ہما نے کہااس نے مجھے نہیں دیکھا تم چاہو تو گیٹ سے چیک کر لو اسکے بھائی کے ساتھ ایک اور بائیک والا لڑکا کھڑا ہے۔اس نے دیکھا تو ہما کی بات ٹھیک نکلی۔ ہما نے پوچھا، عائشہ وہ لڑکی تم تو نہیں ہو نا؟؟عائشہ نے گھبرا کر کہا، نہیں نہیں تم نےایسا کیوں سوچا؟ اسلئے کہ کل تم نے ہی اسکی باتوں میں آکر کلاس چھوڑی تھی۔ میں تو ڈر ہی گئی تھی لیکن یقین نہیں آرہا تھا کہ تم جیسی اچھے گھر کی لڑکی ایسا کر سکتی ہے۔ پتہ نہیں وہ کون لڑکی ہوگی بیچاری۔ہمیں ندا کو روکنا چاہئے۔ دونوں پرنسپل کے پاس گئیں اور ہما نے باہر والی گفتگو انہیں بتادی۔ انہوں نے پولیس کو فون کر دیا اور ان دونوں لڑکوں اور ندا کو گرفتار کر لیا گیا۔ چند ہی گھنٹے میں انہوں نے سب کچھ اگل دیا اور گینگ کے کئی اور سراغ مل گئے۔ عائشہ ہما کی کس قدراحسان مند تھی یہ وہ اسے بتا بھی نہیں سکتی تھی۔لیکن اس واقعے نے ان دونوں کی دوستی کے رشتے کو ہمیشہ کیلئے مضبوط کر دیا۔ساتھ ہی اس خیال کو بھی کہ ماں باپ کی تربیت اگر دینی بنیادوں پر ہو تو کبھی غلط نہیں ہوتی اور اگر اولاد اسکی سختی سے پیروی کرے تو کبھی نقصان نہیں اٹھا سکتی، کیونکہ دین میں ہی دنیا اور آخرت کی فلاح ہے۔‎
Like · ·

Share This With Friends......


How to Find Your Subject Study Group & Join.

Find Your Subject Study Group & Join.

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.


This Content Originally Published by a member of VU Students.

+ Prohibited Content On Site + Report a violation + Report an Issue

+ Safety Guidelines for New + Site FAQ & Rules + Safety Matters

+ Important for All Members Take a Look + Online Safety


Views: 71

See Your Saved Posts Timeline

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by + Angel Sweet Doll(MBA) + on December 1, 2012 at 7:48am

nice one

Comment by ulfat jabeen on November 30, 2012 at 9:52am

Forum Categorizes

Job's & Careers (Latest Jobs)

Admissions (Latest Admissons)

Scholarship (Latest Scholarships)

Internship (Latest Internships)

VU Study

Other Universities/Colleges/Schools Help

    ::::::::::: More Categorizes :::::::::::

Member of The Month

1. Angry Bird

Lahore, Pakistan

© 2018   Created by +~Malik~.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service