We have been working very hard since 2009 to facilitate in your learning Read More. We can't keep up without your support. Donate Now.

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

Izhaar-e-Mohabat Itna Asaan Kabhi na tha... ......‘‘اظہار محبت‘‘ اتنا آسان کبھی نہ تھا

پرانے زمانے میں ’’اظہار محبت‘‘ کے لئے پیار کرنے والے جب زباں سے قوت گویائی نہ کرپاتے تو پھولوں کو گواہ بناتے یا پھر خطوط لکھ کر اپنے لطیف جذبات کا اظہار کرتے۔ ایسے خطوط کو حرف عام میں ’’لو لیٹرزز‘‘ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ مشرقی تہذیب ان ’’لو لیٹرز‘‘ کی اجازت نہیں دیتی یہی وجہ ہے کہ نوجوان ایسے جرم کی پاداش میں اکثر و بیشتر پکڑے جانے پر ارباب خانہ کے ہاتھوں دھر لئے جاتے اور خوب عزت افزائی سے مستفید ہوتے۔

مگر آج انٹرنیٹ کی چکا چوند نے اس کے بھی پرخچے اڑادیئے کیونکہ سوشل میڈیا کے زیر سایہ اخلاقی قدروں کو پامال کرتی برہنہ تہذیب نے جنم لے لیا۔ یہی وجہ ہے کہ قدرے پاکیزہ اور خوف کے سائے میں پلتی پیار محبت کی پینگیں اب بلا خوف خطر اور کسی بند کے بغیر علاقائی و قومی سے لیکر بین الاقوامی سرحدیں بھی چھو رہی ہیں۔

پہلے نوجوان اپنے خطوط پہنچانے کیلئے نت نئے طریقوں کا سہارا لیا کرتے تھے اور کئی کئی دن اپنے خطوط کے جوابات کا انتظار کیا کرتے تھے مگر اب فیس بک، ایس ایم ایس اور ایم ایم ایس جیسے برق رفتا ذرائع نے مشرقی تہذیب کے ہاتھوں پٹے ہوئے بنیادی ضروریات سے محروم نوجوان نسل کو موقع ملنے پر ایک دم نہ صرف آپے سے باہر کردیا بلکہ وہ تمام باتیں ان انجان لوگوں سے شئیر کرنے لگے جو اپنوں سے نہیں کرسکتے تھے۔

ہمارے ہاں اکثریت ایسے دل پھینک عاشقوں کی ہے جو فیس بک پر لڑکی کے چہرے کا فقط ایک انچ حصہ دیکھ کر بھی انٹرنیٹ کے سمندر کو پار کرنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں۔ رومانوی خوش گفتاری کے علاوہ سوشل میڈیا کا دوسرا مگر مثبت پہلو سنجیدہ مسائل پر بحث و مباحثہ بھی ہے جہاں باہمی گفت وشُنید سے ایک دوسرے کو دلاسے دے کر تھراپی کا کام لیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس مشرقی تہذیب کے اقدار کی بات کی جائے تو انٹرنیٹ کی بے لگام دنیا اس کے نقوش مسخ کر رہی ہے۔ ہم ہمیشہ سے یہی پڑھتے آئے ہیں کہ اقدار دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جن کا لوگ بھرے مجمع میں اعتراف کرتے ہیں اور دوسری وہ جن پر وہ اپنی زندگی کے فیصلے کیا کرتے ہیں۔ لہذا انٹرنیٹ نام کی بلا نے یہ ثابت کردیا کہ مشرقی تہذیب صرف پہلی قسم کی اقدار کا نام ہے۔

یہ وہ اقدار ہیں جن کے منہ پر اعتراف کرنے والے تو بہت ملیں گے مگر ان پر نہ تو زندگی گزاری جاتی ہے اور نہ ہی انسانی معاشرے میں ان اقدار کو زندہ رکھا جاسکتا ہے۔ اسی وجہ سے مشرقی اقدار انٹرنیٹ کی دنیا میں آتے ہی غائب ہوجاتی ہیں اور انسان وہ اقدار لے کر آتا ہے جن پر وہ حقیقی معنوں میں جی رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سائبر اسپیس میں قائم ہونے والی دوستیاں اچانک ان رشتوں سے زیادہ مضبوط ہونے لگتی ہیں جو ہم نے اپنی حقیقی زندگیوں میں قائم کر رکھی ہوتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا پر آمنے سامنے نہ ہونا ہے، جو بات ہم بالمشافہ نہیں کہہ سکتے وہ ہم اس سائبر اسپیس میں باآسانی کہہ جاتے ہیں۔

پہلے لوگ فقط ایک جملہ کہنے کی غرض سے گلی کے کونوں پر کھڑے ہوکر پورا پورا دن ضائع کردیا کرتے تھے مگر نوبت نہیں آپاتی تھی، اور اگر کہہ بھی دیتے تھے تو سُننے والی کو اگر آپ یا آپ کا جملہ ناپسندیدہ گزرتا تو پھر اتنی باتیں سننا پڑتی کہ بھاگنے کا راستہ ڈھونڈنا پڑتا، جبکہ آج وڈیو، آڈیو وائیسز یا ایس ایم ایس کی شکل میں یہ سہولت گھر کی چار دیواری میں باآسانی دستیاب ہے۔ گھر کے کمرے میں بیٹھ کر کسی بھی لڑکی لڑکے سے ہر طرح سے بات چیت کا کھلا میدان موجود ہوتا ہے یعنی زمانے کے ساتھ اب اس کام میں بدلاؤ آگیا ہے۔

گلی کے چبوترے پر بیٹھنے اور گلی کے کونے کھانچوں پر کھڑے ہونے والے اب سوٹڈ بوٹڈ ہوکر کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر بیٹھ کر وہی حرکتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ ہاں البتہ دونوں زمانے کے لڑکوں میں ایک چیز مشترک یہ ہے کہ خواتین کے بارے میں دونوں کا نقطہ نظر یکساں ہی ہوتا ہے۔ جبکہ قرب حاصل کرنے کیلئے آج کے نوجوانوں کا طریقہ واردات مختلف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پرانے زمانے کے لفنگے لڑکے پکڑ میں آجاتے تھے مگر آج کا مہذب لفنگا سب کچھ کرکے بھی شریف رہتا ہے۔

ویسے بات نئے زمانے کے مرد کی ہو یا پرانے زمانے کے مرد کی، دونوں ہی کسی بھی طرح صنف نازک کی قرابت کے طلبگار ٹھہرے ہیں، مگر یہاں بات ختم نہیں ہوجاتی۔ پہلے زمانے کا مرد جس کو چاہتا تھا اسی سے شادی رچاتا تھا جبکہ آج کا نوجوان دوستی کیلئے الگ اور شادی کیلئے الگ خاتون کا متمنی ہے اور اسی سوچ سے ہمارے اقدار کا قتل عام شروع ہوا ہے جس کی روک تھام کی اشد ضرورت ہے ورنہ ہماری آنے والی نسلیں ہمارے اقدار تک کو نہ پہچان پائے گی۔

link


+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)


Views: 290

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by Assad Ali on November 11, 2016 at 9:47pm

Comment by Ur's AB's on October 27, 2016 at 8:26pm

@ Misha Noor

kbhi kuch loog ko khud par n apny ilam n exprnce n age etc py itna ghumand n atimad hota hy k un ka khyl ya manana hy k hum wrng ho hi ni skty..... so in last bad climax bt tb tk chiriyan khaet chug gai hoti hain.....

any how Maan k chalny mn hi khair hy....

tajurba insan ko wrng decision sy bachta hy bt ye hasil wrng decision sy hi hota hy....

bhtr hy k khud tajurby na krn n othr sy sabak sekhein.....

Looking For Something? Search Here

Latest Activity

Today Top Members 

HELP SUPPORT

This is a member-supported website. Your contribution is greatly appreciated!

© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.