We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>


Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

Mashraqi Rawayat Aur Aaj Ki Oraat...مشرقی روایات اور آج کی عورت

ایک وقت تھا جب کہ عورت ان پڑھ تھی۔ شادی کے بعد گھر داری میں لگی رہتی تھی۔ شوہر، بچوں، ساس سسر کے ساتھ ساتھ نندوں اور دیوروں کا خیال رکھنا بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل تھا، مگر اس سب کے باوجود وہ محفوظ تھی. پر سکون تھی اور ڈھلتی عمر کے ساتھ وہ ایک رہنما اور سرپنچ کے عہدے تک پہنچ جاتی تھی۔ بچوں پر حکم اور فیصلے سنانے کے علاوہ سارا دن گھر داری میں گزارنے والی کو محلے کی عورتوں کے علاوہ کسی سے تعلق نہ ہوتا تھا، پھر وقت بدلا، جدت آئی عورت کو اپنے مقام کا احساس ہوا اور وہ آزاد ہونے لگی… سسرال تو سسرال اسے خاوند کی خدمت بھی ایک بوجھ لگنے لگا، پھر پرائیویسی کے نام پر علیحدہ گھر کے مطالبات ہونے لگے… وقت مزید آگے بڑھا تو اس سے بھی چند قدم آگے جا کر اب عورت مکمل آزاد ہے تعلیم یافتہ ہے اور اپنی زندگی جی رہی ہے… ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جارہا ہے کہ، عورت گھر سے نکل کر بینک، شاپنگ مال آفس اور کئی ایسی جگہوں پر ملازمت کرتی دکھائی جارہی ہے جہاں اس کی موجودگی ہی سمجھ سے باہر ہے… خیر عورت کو ترقی کرنی چاہیے ضرور کرنی چاہیے ہم اس کے بالکل خلاف نہیں مگر، عورت کی بے لگام ترقی کا سب سے بڑا نقصان مرد کی تنزلی کی صورت میں ہو رہا ہے، جہاں کہیں ملازمتوں کے در کھلتے ہیں، وہاں مرد کے پاس دکھانے کو صرف اپنی تعلیمی دستاویزات ہوتی ہیں جبکہ عورت کے پاس ہنر، تعلیم اور قابلیت کے باعث ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ مردوں کی اکثریت بے روزگار ہو رہی ہے… ایک اور بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ عورت جتنی زیادہ تعلیم یافتہ ہوتی جا رہی ہے اس کے رشتے کا مقابل مرد تلاش کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ مردوں کی اکثریت ماسٹر ڈگری وہ بھی فارمل ایجوکیشن کے ساتھ کرنے کے بعد ملازمت ڈھونڈنے میں مگن ہو جاتی ہے۔ہے۔ 

اب عورت کا اگلا قدم یہ ہو گا کہ عورت ہی ملازمت کر کے گھر کی کفیل ہوا کرے گی، جبکہ مرد مکمل فارغ یا پھر کسی چھوٹی موٹی ملازمت سے بس زندگی کو دھکا دینے کی ناکام کوشش کرتا ہوا نظر آئے گا… بہ ظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ ملازمت کرنا اور گھر چلانا عورت کا کام ہے۔ عورت کی اس طرح کی آزادی ہمارے خاندانی نظام کے لیے بڑی خطرناک ہے۔ بچے کے گرنے پر ماں کا میں صدقے جاؤں کہہ کر لپکنا… بچے کی ہر آہٹ پر بے چین ہو جانے والی ماں، بڑھتی عمر کے بچوں کے لیے فکرمند ماں، وہ سب کی پسند ناپسند کا خیال کرکے ہانڈی پکانے والی ماں، قصے کہانیاں اور لوری سنا کر سلانے والی ماں، غلط کاموں پر ڈانٹنے اور چپلیں پھینک کر ڈرانے والی ماں، اپنی اولاد کی پرورش میں گم صم رہنے والی اور اپنی ہی اولاد میں کیڑے نکالنے اور نکتہ چینیاں کر کے دل ہی دل میں خوش ہونے والی ماں، اب اگلی نسل کو شاید نصیب ہی نہ ہو، کیونکہ سارا دن کی تھکی ہاری عورت گھر آکر کیا کیا کام کرے گی۔ بچے سنبھالے گی، گھر سنبھالے گی، شوہر کی ضروریات کا خیال رکھے گی یا آرام کرے گی، تاکہ صبح تازہ دم ہو کے ملازمت کی ذمہ داری سنبھال سکے… اسپتال، اسکول، پولیس جیسی ضروری جگہوں پر تو عورت کا وجود نعمت سے کم نہیں مگر پرائیویٹ اداروں کے استقبالیہ شاپنگ مالز میں جینٹس پراڈکٹس شاپس اور اس جیسی لاتعداد جگہوں پر عورت کی موجودگی ہمارے مشرقی نظام کے لیے ایٹم بم ہے.. اور ہمارے اخلاقی نظام کا دیوالیہ نکالنے کے لیے کافی ہے… یہ تلخ باتیں بہت سی خواتین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں، مگر ہم نے حقیقت دکھانے کی کوشش کی ہے... کچھ سمجھانے کی کوشش کی ہے. امید ہے کہیں بھی ضرب لگ گئی تو کچھ بدلؤ آجائے۔

link 

Share This With Friends......

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.

This Content Originally Published by a member of VU Students.

+ Prohibited Content On Site + Report a violation + Report an Issue


..How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?..


Views: 61

See Your Saved Posts Timeline

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by fajar on April 28, 2019 at 2:11am

ri88.....

Comment by Ur's AB's on April 27, 2019 at 8:17pm

ap k both qustns k Ans " G "

WALAH O ALAM

Comment by فقیہہ اقدس on April 27, 2019 at 3:50pm

عمدہ  ۔ ہر بار کی طرح

میرے پاس کچھ سوال ہیں

کیا اس سب میں صرف عورت ذمہ دار ہے یا مرد بھی؟ 

کیا ایک لڑکی سٹیٹس کے لئے یا باہر رہنے کے لئے چھوٹی چھوٹی دکانوں جسے شاپنگ مال کہتے پر پائی جاتی ہے؟ 

Comment by Ur's AB's on April 20, 2019 at 3:24am

g jante hn ye v n kuch aur v....bt....

anyhow...

Comment by Alina on April 16, 2019 at 2:06am

Its true magar kya ap jante hn k is irtiqa ki wja kya hy....

yaad ki jie hm news mn prhte hn jaheez na hone pr biwi ka qatal, pasand ki shaadi na hone pr larki pr acid pehnkna. sara din sb ka khayal rkhne k bawajood ye jumla k tum sara din krti hi kya ho. tumn kya pta, tumhare bs ki baat nhi. larki hy, larka hoti to maan baap ka sahara bnta ye or is jesi beshumar jumle hi janab aurat ko tabdeel krte hn or phir jb wo apni qabliat salahiat or takat se khud ko mnwati hy to logon ko be rozgari ka khoaf paida ho jata hy or un ka khandani nizam bigar jata ye sb tb yaad qyn nhi ata jb mard hazrat khud is ko begarne ka agaz krte hn.

ghar ki char diwari mn sakoon se rehna kisi ko bura nhi lgta. ye yahi mashra hy jo aurat ko niklne pr majboor bhi krta hy or phir tankeed bhi.

Comment by + ! ! ! ! ! ❤ on April 3, 2019 at 7:54pm

Strongly agree

ye aise hi hai jese 2 phases of generation and both have had goods and bads.....

Study Corner For DigiSkills Students

Today Top Members 

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service