We have been working very hard since 2009 to facilitate in your learning Read More. We can't keep up without your support. Donate Now.

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کہیں ایک خوشحال شخص رہتا تھا۔ اسکا ایک اکلوتا بیٹا تھا۔ ماں کے اکلوتے بیٹے کیلئے فطری خوف کے تحت مگر ناز و نعم میں پلا ہوا، یہاں تک کہ جوان ہو گیا۔ نہ کوئی ہنر ، نہ ہی کسی کام کا تجربہ۔ اسے ایک ہی کام آتا تھا اور وہ تھا باپ سے چھپا کر ماں کے دیئے ہوئے پیسوں سے کھیل کود اور مستیاں کرنا اور سڑکوں چوراہوں پر وقت گزارنا۔
اور ایک دن صبح کے وقت باپ نے اسے آواز دیکر اپنے پاس بلایا اور کہا: بیٹے اب تم بڑے ہو گئے ہو اور خیر سے جوان بھی ہو۔ آج سے اپنی ذات پر بھروسہ
کرنا سیکھو، اپنے پسینے کو بہا کر کمائی کرو اور زندگی گزارنے کا ڈھنگ سیکھو۔
بیٹے کو یہ بات کچھ ناگوار سی گزری، تقریباً احتجاج بھرے انداز میں اس نے باپ سے کہا: مجھے تو کوئی کام کرنا نہیں آتا۔
باپ نے کہا: کوئی بات نہیں، اب سیکھ لو، تم آج ہی شہر روانہ ہو جاؤ، اور یاد رکھو جب تک میرے لئے ایک سونے کی اشرفی نہ کما لینا لوٹ کر واپس نہ آنا۔
مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق، بیٹا گھر سے جانے کیلئے دروازے کی طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ اس کی ماں جو یہ سب گفتگو چھپ کر سن چکی تھی بیٹے کے سامنے آ گئی، مٹھی میں چھپائی ہوئی اشرفی بیٹے کو دیتے ہوئے بولی کہ شہر چلے جاؤ، رات گئے لوٹ کر یہ اشرفی باپ کو لا کر دینا اور کہنا کہ میں شہر سے کما کر لایا ہوں۔ اور یہ نوجوان خوشی خوشی گھر سے روانہ ہو گیا۔
شام گئے لوٹ کر بیٹے نے ویسے ہی کیا جس طرح اسکی ماں نے اسے سمجھایا تھا، سیدھا باپ کے پاس جاکر بولا: ابا جان، یہ لیجیئے سونے کی اشرفی، میں نے سارا دن بہت جان لڑا کر کام کیا اور بہت ہی مشکل سے یہ اشرفی کما کر آپ کے پاس لایا ہوں۔
باپ نے اشرفی کو لیکرکافی غور سے دیکھا، پھر آتشدان میں جلتی آگ میں جھونکتے ہوئے بیٹے سے کہا: نہیں برخوردار، یہ اشرفی تمہاری محنت کی کمائی نہیں ہے۔ تم کل سے دوبارہ کام پر جاؤ اور دیکھ لینا جب تک ایک اشرفی کما نہ لینا لوٹ کر واپس نہ آنا۔
بیٹا خاموشی سے باپ کی اس حرکت کو دیکھتا رہا، نہ کوئی احتجاج اور نہ کوئی ردِ عمل۔
دوسرے دن شہر کو جانے کیلئے گھر سے باہر نکلتے ہوئے دروازے کی اوٹ میں ماں کو پھر منتظر پایا، ماں نے اسکی مٹھی پر ایک اور اشرفی رکھتے ہوئے کہا: بیٹے اس بار جلدی واپس نہ آنا، شہر میں دو یا تین دن رکے رہنا، اور پھر لوٹ کر باپ کو یہ اشرفی لا دینا۔
بیٹے نے شہر جا کر ماں کے کہے پر عمل کیا ، تین دن کے بعد گھر لوٹ کر سیدھا باپ کے پاس گیا اور اشرفی اسے تھما تے ہوئے کہا: اے والد محترم، یہ لیجیئے سونے کی اشرفی، اسے کمانے کیلئے مجھے بہت کٹھن محنت کرنا پڑی ہے۔
باپ نے اشرفی لیکر اسے کافی دیر غور سے دیکھا اور دوبارہ یہ کہتے ہوئے آگ میں پھینک دی کہ: بیٹے یہ وہ اشرفی نہیں ہے جو میں چاہتا ہوں، کل تم پھر سے کام کیلئے جاؤ اور اس وقت تک نہ لوٹنا جب تک اشرفی نہ کما لینا۔
اس بار بھی اپنے باپ کی اس حرکت پر بیٹا بغیر کوئی ایک لفظ بولے خاموش رہا۔
تیسری مرتبہ اس بار یہ نوجوان اپنی ماں کے جاگنے سے پہلے ہی شہر کی طرف روانہ ہو گیا اور وہاں ایک مہینہ رہا۔ اور اس بار ایک مہینے کے بعدحقیقی معنوں میں محنت و مشقت سے کماکر اشرفی کو نہایت حفاظت سے مٹھی میں دبائے ، مسکراتے ہوئے اپنے باپ کے پاس حاضر ہوا، اشرفی باپ کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا: اے والدِ محترم، میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس بار یہ اشرفی میرے پسینے کی کمائی ہے، یقین کیجئے اسے کمانے کیلئے مجھے بہت محنت کرنا پڑی ہے۔
سونے کی اشرفی کو ہاتھ میں لیکر باپ کافی غور سے دیکھتا رہا، اس سے پہلے کہ اسکا باپ اشرفی کو آگ میں ڈالنے کیلئے ہاتھ بڑھاتا، نوجوان نے آگے بڑھ کر باپ کا ہاتھ تھام لیا اور کہا کہ ابا جان میں نے اتنی محنت کر کے اس اشرفی کو کمایا ہے اور آپ اسے آگ میں ڈالنے لگے ہیں اس بار باپ ہنس دیا اور بڑھ کر بیٹے کو گلے لگاتے ہوئے کہا: اب بنے ہو جوان تم!بے شک یہ اشرفی تیری محنت اور پسینے کی کمائی ہے۔ کیونکہ اسے ضائع ہونا تجھ سے نہیں دیکھا گیا۔ جبکہ اس سے پہلے میں دو بار اشرفیاں آگ میں پھینک چکا ہوں مگر تجھے کوئی افسوس نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ وہ تیری محنت کی کمائی نہیں تھی
سچ ہے کہ بغیر محنت کے آنے والا مال جاتا بھی تو اسی آسانی سے ہے ۔

https://www.facebook.com/photo.php?fbid=299628866803244&set=a.1...


+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)


Views: 683

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by Duaa Batool on October 31, 2012 at 10:20pm

nice one
mehnat mn azmat hy

Comment by Butterfly on October 30, 2012 at 6:20pm

Nice

Comment by ♥♥Let it Grow♥♥ on October 30, 2012 at 5:35pm
nice....
Comment by ♥♥Let it Grow♥♥ on October 30, 2012 at 5:35pm
nice....
Comment by + !!!PἇƦÎzἇἇÐ ₱ἇƦÎѠÎ₰h!!! on October 30, 2012 at 9:26am

NICE SHARING!!!

Comment by + Arsh + on October 30, 2012 at 9:07am

Nice Sharing

Comment by tahreem sheikh on October 30, 2012 at 7:58am

nice ji

Comment by + Angel Sweet Doll(MBA) + on October 29, 2012 at 10:37pm

ya nice and gud sharing

Comment by shabbir ghuman on October 29, 2012 at 9:10pm

theak kaha bhai nai

laiken yaar pakistan mai mazdoor ki mehnat 300rs aur

england main 5000rs per day

mehnat main azmat hai

Comment by Muhammad Anwar on October 29, 2012 at 6:27pm

nice

Looking For Something? Search Here

Today Top Members 

HELP SUPPORT

This is a member-supported website. Your contribution is greatly appreciated!

© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.