Latest Activity In Study Groups

Join Your Study Groups

VU Past Papers, MCQs and More

We non-commercial site working hard since 2009 to facilitate learning Read More. We can't keep up without your support. Donate.

Social Websites Zimehdari k Sath Istimal Krein......سماجی ویب سائٹس ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں

پاکستانی معاشرے میں سوشل میڈیا کا رجحان جس تیزی سے بڑھ رہا ہے لیکن اس تیزی سے اس کے درست استعمال کے بارے میں آگاہ نہیں کیا جا رہا۔

پاکستان میں تقریبا 30 ملین شہریوں کو انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے، ان میں سے دس ملین شہری فیس بک جبکہ لگ بھگ دو ملین ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ایسے چند واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں فیس بک پر جعلی اکاؤنٹ بنا کر لوگوں کو دھوکہ دیا گیا۔ اسی طرح ای میل یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک کر کے لوگوں کی ذاتی معلومات تک حاصل کئی گئیں۔ چند ماہ قبل کراچی میں فیس بک کے ذریعے ایک بچے کو اغوا کر لیا گیا تھا جو ظاہر کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے سنگین جرائم کا ارتکاب کس حد تک ممکن ہے۔

سوشل میڈیا پرجلدی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، شہنیلا سکندر

پاکستان میں سوشل میڈیا کے ماہر حماد صدیقی کا کہنا ہے کہ والدین کی رہنمائی اور بچوں کی زندگیوں میں ان کی دلچسپی سے بہت سے ممکنہ خطرات سے بچا جا سکتا ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا میں سکیورٹی کے حوالے سے معلومات کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں اب کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو سوشل میڈیا پر کی سکیورٹی اور نقصانات کے بارے میں بھی بتایا جائے۔ حماد صدیقی کا موقف ہے کہ یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے، جب تک صوبائی حکومتیں کمپیوٹر کے نصاب میں سوشل میڈیا سکیورٹی اینڈ سیفٹی کے مضمون شامل نہیں کرتیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فیس بک یا موبائل کے غلط استعمال کے باعث پیش آنے والے سنگین جرائم کے بارے میں بھی طلبا کو بتایا جانا ضروری ہے۔

شنیلا سکندر سوشل میڈیا کے ممکنہ خطرات سے متعلق کہتی ہیں۔’’ اس وقت سوشل میڈیا پر بہت سے جعلی اکاؤنٹس موجود ہیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ جب بھی انہیں دوست بننے کی درخواست بھیجتا ہے تو تصدیق کیے بغیر اسے قبول نہ کریں۔ ذاتی زند گی میں ہم ہر کسی پر اعتبار نہیں کرتے تو سوشل میڈیا پراتنی جلدی بھروسہ کیسے کر لیتے ہیں ‘‘۔

سوشل میڈیا کے ایک فعال صارف فیصل کپاڈیا کی رائے میں والدین کو سافٹ ویئر کے ذریعے انٹرنیٹ پر اپنے بچوں کی سرگرمیوں کو دیکھنا چاہیے اور بچوں کو بتانا چاہیے کہ انٹرنیٹ پر ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ فیس بک کی ایک صارف ثمینہ صدیقی کہتی ہیں کہ معاشرے میں سمارٹ فونز کا استعمال دولت اور اعلیٰ مقام رکھنے کی علامت بن چکا ہے لیکن نابالغوں کو سمارٹ فونز دینےسے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا نہایت مشکل ہے۔

دوسری جانب شنیلا کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر اپنی ذاتی معلومات نہ دیں جیسے مو بائل نمبر، گھر کا پتہ اور ذاتی تصاویر۔ ان کے بقول اپنا اسٹیٹس لکھتے وقت بھی احتیاط کریں۔ کبھی بھی یہ نا لکھیں کہ آپ کہاں ہیں اور کیا کر ر ہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے فیس بک یا ٹوئٹر پر لکھا ہوتا ہے کہ میں گھر میں تنہا ہوں، اسکول یا کالج کے راستے میں ہوں یا فلاں مارکیٹ میں ہوں۔ اس طرح مضموم عزائم رکھنے والے لوگوں کے مقاصد آسان ہو جاتے ہیں۔

Link

Views: 207

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by + ą RaNi ❧* on January 30, 2015 at 6:07pm

informative...

Comment by Anmol Maha on January 30, 2015 at 9:59am

gud point

© 2021   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service