We have been working very hard since 2009 to facilitate in your learning Read More. We can't keep up without your support. Donate Now.

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

کسی یونیورسٹی کاایک نوجوان طالب علم ایک دن اپنے پروفیسر کے ساتھ چہل قدمی کر رہا تھا ۔ پروفیسر اپنی مشفقانہ طبیعت کی وجہ سے تمام طالب علموں میں بہت مقبول تھے ۔
چہل قدمی کرتے ہوئے اچانک ان کی نظر ایک بہت خستہ حال پرانے جوتوں کی جوڑی پر پڑی جو پاس ہی کھیت میں کام کرتے ہوئے غریب کسان کی لگتی تھی
طالب علم پروفیسر سے کہنے لگا ، "ایسا کرتے
ہیں کہ اس کسان کے ساتھ کچھ دل لگی کرتے ہیں اور اس کے جوتے چھپا دیتے ہیں اور خود بھی ان جھاڑیوں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں اور پھردیکھتے ہیں کہ جوتے نہ ملنے پر کسان کیا کرتا ہے"۔
پروفیسر نے جواب دیا ، "ہمیں خود کو محظوظ کرنے کے لئے کبھی بھی کسی غریب کے ساتھ مذاق نہیں کرنا چاہئیے ، تم ایک امیر لڑکے ہو اور اس غریب کی وساطت سے تم ایک احسن طریقہ سے محظوظ ہو سکتے ہو ۔

ایسا کرو ان جوتوں کی جوڑی میں پیسوں کا ایک ایک سکہ ڈال دو اور پھر ہم چھپ جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ سکے ملنے پر کسان کا کیا رد عمل ہوتا ہے " ۔ لڑکے نے ایسا ہی کیا اور پھر دونوں نزدیک ہی چھپ گئے ۔
غریب کسان اپنا کام ختم کر کے اس جگہ لوٹا جہاں اسکا کوٹ اور جوتے پڑے ہوئے تھے ۔ کوٹ پہنتے ہوئے اس نے جونہی اپنا ایک پاؤں جوتے میں ڈالاتو اسے کچھ سخت سی چیز محسوس ہوئی ۔ وہ دیکھنے کی خاطر جھکا تو اسے جوتے میں سے ایک سکہ ملا ۔
اس نے سکے کو بڑی حیرانگی سے دیکھا ، اسے الٹ پلٹ کیا اور پھر بار بار اسے دیکھنے لگا۔
پھر اس نے اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی کہ شائید اسے کوئی بندہ نظر آ جائے لیکن اسے کوئی بھی نظر نہ آیا اور پھر شش و پنج کی ادھیڑ بن میں اس نے وہ سکہ کوٹ کی جیب میں ڈال لیا ۔ لیکن اس وقت اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی اور اسے ایک جھٹکا سا لگا جب دوسرا پاؤں پہنتے وقت اسے دوسرا سکہ ملا اس کے ساتھ ہی وفور جذبات سے اس کی آنکھیں اشکوں سے لبریز ہوگئیں ۔۔۔ وہ اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑا ۔۔۔ اور آسماں کی طرف منہ کر کےاپنے رب کا شکر ادا کرنے لگا کہ جس نے اس کی کسی غیبی طریقے سے مدد فرمائی وگرنہ اس کی بیمار بیوی اور بھوکے بچوں کا ، جو گھر میں روٹی تک کو ترس رہے تھے ، کوئی پرسان حال نہ تھا ۔
طالب علم پر اس کا بہت گہرا اثر ہوا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے
تب اچانک پروفیسر بول پڑے اور لڑکے سے پوچھنے لگے "کیا تم اب زیادہ خوشی محسوس کر رہے ہو یا اس طرح کرتے جو تم کرنے جا رہے تھے ؟"
لڑکے نے جواب دیا، " آج آپ نے مجھے ایسا سبق سکھایا ہے جسے میں باقی کی ساری زندگی نہیں بھولوں گا، اور آج مجھے ان الفاظ کی حقیقت کا بھی صحیح ادراق ہوا ہے جو پہلے کبھی ٹھیک طرح سے سمجھ نہ آ سکے کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے ہمیشہ بہتر ہوتا ہے ۔
-------------------------------------------------------------------------------
اگر آپ بھی زندگی میں حقیقی خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ تو دوسروں کی مدد کیجئے ۔


+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

+ Click Here To Join (Our facebook study Group)


Views: 169

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

Comment by Butterfly on November 27, 2012 at 6:57pm

Very nice...

Comment by +*¨^¨*+(βιπ† ε hαωωα)+*¨^¨*+ on November 27, 2012 at 5:54pm

good 

Comment by ╰☆Dr.Economist☆╮ on November 27, 2012 at 1:21pm

Comment by + Angel Sweet Doll(MBA) + on November 26, 2012 at 10:52pm

excellent

Comment by Duaa Batool on November 26, 2012 at 9:19pm

Ustad USTAD hi hota hay

yes very true Haqeqi khushi asi mn hy k ap dosro ki help kar k kasy khushi hasil kar skty hn

Comment by Duaa Batool on November 26, 2012 at 9:11pm

hymm bht khub nice sharing

Qasim Ali keep it up....

Comment by Duaa Batool on November 26, 2012 at 9:10pm

Approved by Duaa

© 2020   Created by +M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service

.