We are here with you hands in hands to facilitate your learning & don't appreciate the idea of copying or replicating solutions. Read More>>

Looking For Something at vustudents.ning.com? Click Here to Search

www.bit.ly/vucodes

+ Link For Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution

www.bit.ly/papersvu

+ Link For Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More

کبھی کسی دوست کا دل نہ توڑو اور نہ ہی کسی دوست کو دھو کہ دو(written by me)


دوستی اور پیار
بنت عابد

جانے کیوں لوگ سکون نہیں لینے دیتے اس نے اہ بھری اور اٹھ کر بیٹھ گئی کہ پھر سے مما کی آوازیں انے لگی اور وو اپنے بہتے آنسوؤں کو صاف کرتے اٹھ کھڑی ہوئی .باہر اتے ہی مما نے ہمیشہ کی طرح اسے سمجھانا شورو کیا اور وو ہمیشہ کی طرح جسمانی طور پر تو ادھرتھی اس کا دل اور دماغ کسی اور کی سوچ میں ڈوبا تھا.
یسری سید ماں باپ کی اکلوتی بیٹی اور پانچ بھائیوں کی اکلوتی بہن نفسیات کی ہونہار طالبہ تھی . کہنے کو اس کے پاس سب کچھ تھا لکین حقیقت میں وو بوہت تنہا تھی . اسے کبھی کسی نے سمجنے کی کوشش نہیں کی تھی یا شاید وو اکلوتی اور سب اس کا کچھ زیدہ خیال رکھنا چاہتے تھے لکن خیر جو بھی تھا اس سب کا یا نتیجہ نکلا کے وو دن بہ دن اکیلی ہوتی گئی اس کا کوئی دوست کوئی رازدان نہیں تھا اس کا پاس کوئی ایسا رشتہ نہیں تھا جس سے وو اپنے دکھ درد تکلیف اور اپنی تنہایاں بانٹتی . کہنے کو وو کو ایجوکیشن میں پڑتی تھی کلاس کی سب سے لائق اور ہونہار طالبہ تھی لیکن اس سب کا باوجود بھی کوئی اسے اپنا دوست نہیں بنانا چاہتا تھا وو خوبصورت نہیں تھی لیکن اس کا دل بوہت اچھا اور خوبصورت تھا وہ دل جسے لوگوں کا رویے دن بہ دن میلا کر رہے تھے . پھر دھیرے دھیرے اس نے اپنی ایک الگ دنیا بسا لی جو کہ ایک تخلیتی اور کتابی دنیا تھی وو کتابوں سے پیار کرنے لگی کیوں کا اسے لگتا تھا کہ کتابیں اس کی تنہایوں کی ساتھی ہیں اور وو دوسروں کی طرح اسے تکلیف نہیں دیتی تھی . اس سب میں وو اتنا دور نکل گئی کے شاید وو اپنے اصل کو بھی بھول گئی . اور اس کہ پاس کوئی اور راستہ بھی تو نہیں تھا کیوں کہ بچپن سے لے کر اسے کبھی کسی نے سمجنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی نہ ما ں باپ نے اور نہ ہی بہن بھائیوں نے . وہ کیا کرنا چاہتی ہے وہ کیا پھڑ نا چاہتی کسی نے کبھی جاننے کی کوشش ہی نہ کی تھی بلکے ہر کوئی اسے اپپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتا تھا وو اس سب کا لیے ایک کٹھ پتلی تھی . اس کی مرضی اس کی خوائش کسی کے لیا کوئی معنی نہیں رکھتی تھی . 
یسری نے خود کو مار دیا اس نے اپنا اصل اپنی ذات کو خود ہی کھو دیا اس کا اندر سناٹو ں کا راج تھا اسے کسی چیز کی خو شی یا غم نہیں ہوتا تھا . اسے اپنی ہر کامیابی سے ڈر لگنے لگا تھا اس کی کامیابی ہمیشہ اسے دکھ دیتی تھی پھر ایسا ہونے لگا کا اس نے کامیابی سے دور بگنا شورو کر دیا ووناکمیوں کو زندگی کا حصہ بنانے لگی ہر کوئی ہمیشہ اسے اپنے مطلب کے لیے استعمال کرتا تھا اور دل بھر جانے پر چھوڑ دیتا تھا اور ہر بار ایک کھلونے کی طرح ٹوٹ جاتی تھی .
پھر اچا نک یسری سید کی زندگی میں محبت نے قدم رکھا لکین اس بازی میں بھی ہمیشہ کی طرح وو ہار گئی اس سے پہلے کے وو پھر سے ریزہ ریزہ ہوتی اس کی سانٹو ں اور کتابی دنیا میں ایک خوبصورت دوست ا گیا جس نے دھیرے دھیرے اسے سمیٹنا شورو کر دیا اس کا دوست بھی اسی کی طرح ٹوٹا اور بکھرا ہوا تھا دونو کا دکھ دونوں کی تکلیف ایک ہی تھی دونوں نے محبت کی بازی ہاری تھی جلد ہی دونوں ایک دوسرے کا بوہت قریب اگے ایک دوسرے کے سب اسی اچھے دوست بن گے. یسری کو لگتا تھا کہ فہد وو پہلا شخص ہے جو اسے سمجتا ہے اور حقیقت نہی یہی تھی فہد اس کی ہر کہی اور ان کہی باتوں کو سمجھ جاتا تھا فہد اس کا خیال رکھتا تھا .یسری کی زندگی بدل گئی وو خو ش رہنے لگی ہر لمحے کو جینے لگی اور کب اس دوستی کی ڈگر پر چلتے چلتے کب اس نے پھر سے ایک نامعلوم منزل محبت کی رہ میں قدم رکھ دیا
شاہ زادہ فہد ما ں باپ کا سب چھوٹا اور لاڈلا لکین بیحد سمجدار بیٹا جو لوگوں کا لیا ایک مسٹر ی تھا لکین یسری کےلیے نہیں وو اس کی خوبیاں خامیاں اچھے سے جانتی تھی اس کے لیے فہد ایک کھلی کتاب کی طرح تھا لکین فہد کی خو شی کا لیے وو یےبات کبی نہیں بولتی تھی.
وہ فہد جس کے لیے یسری سید ایک اچھی دوست تھی اور شاہ زادہ فہد جو یسری سید کا سب کچھ بن گیا تھا اس کی زندگی اس کی مسکرہٹ . یسری نہ آنکھوں میں پھر سے کچھ خواب بن لئے وہ خواب جن کا ٹوٹ جانے کا اسے علم تھا وہ خواب جو کبھی پورے نہیں ہو سکتے تھے .یسری کا دن فہد سے شورو ہونے لگا یسری کی راتیں فہد سے بات کرتے اسکی یادوں میں گزرنے لگی فہد کی سنگت میں رہتے اس نے پھر سے ایک دفع پھر کامیابیوں کا راستے پے قدم رکھ دیا وہ اپنا ہر دکھ درد اپنی تنہایاں سب فہد سے شر کرنے لگی جب فہد روٹھتا تو یسری کو لگتا کہ زندگی روٹھ گئی اس نے ہر کسی کی پروا کرنا چھوڑ دی.یسری کا اکثر گگناننےلگی کہ زندگی میں خو شی تیرے انے سے ہے ورنہ جینے میں غم ہر بہانے سے ہے .فہد یسری کو اس راہ سے دور رکھنا چاہتا تھا وو ہمیشہ اس سے بولتا کہ تم پاگل ہوں یا بات نہیں تھی کہ یسری کا پیار یک طرفہ تھا فہد بھی یسری سے پیار کرتا تھا لکین ایک دوست کی حسسیت سے یسری اس کے لیا اوس کی سب سے اچھی دوست تھی .یسری فہد سے ہمیشہ بولتی تھی کہ وو اسے کابھ نہیں چھوڑے ہمیشہ اس کا ساتھ ے گی اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ٹھیک ہے اگر فہد اس کی زندگی کا ساتھی نہیں بن سکتا تو وہ کسی سے بھی پیار کا رشتہ نہیں جوڑے گی کیوں کا وہ پیار جو وہ فہد سے کر بیٹھی ہے وہ شا ید کسی اور سے نہیں کر پائی گی اب اگر دل کی سر زمین پے کوئی قدم رکھ سکتا ہے تو وہ فہد کا علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا
.لکین فہد اسے بولتا تھا اک جسٹ ویٹ اینڈ واچ تمہیں ایک دن مجھے چھوڑنا پڑھے گا یہی دستور دنیا ہے وو اس کی اس بات پے چپ ہو جاتی تھی کیوں کا وو کبھی اسے یا بات نی سمجھا پائی تھی کہ وہ اسے کبھی نہیں چھوڑ سکتی دنیا کا کیا ہے اس دنیا نے اور اس کے اپنوں نے ہمیشہ اس سے رشتے چھینے ہی تھے اسے درد ہی دیا تھا وو ان لوگوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتی لکین اس نے دل میں ٹھان لی تھی اور وہ فہد سے بھی ہمیشہ یہی بولتی تھی کہ وہ اپنی اس دوستی کو زندگی کی آخری سانس تک نباہے گی کیوں کے اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ٹھیک ہے اگر اس کی قسمت میں فہد کا پیار نہیں تو کیا ہوا دوتی تو ہے نہ وہ اس کے ساتھ دوست بن کے ہی رہ لے گی لکین اس سے جدائی یسری کے لئے موت تھی .اور فہد ہمیشہ اس کے پاگلپن
سے خوفزدہ رہتا تھا کیوں یسری کا لیا ہر چیز کےلیے شدت پسسند تھی وہ کچھ بھی ناپ تول کہ نہیں کرتی تھی اس کی نفرت اسکی محبت سب بے انتہا ہوتی تھی اس کے لیے جذبوں کی کوئی حد نہیں ہوتی اور پھر فہد وہ تو ایک ایسا اکلوتا رشتہ تھا اس کی زندگی میں جو اس کا سب کچھ تھا اس کے خون کے رشتوں سے بڑ کر تھا جس کے ہونے سے اسکی زندگی میں خوشیاں تھی جو اسکی ہنسی تھا .پھر اچانک یسری اسے پتا چلتا ہے کہ اس کے دماغ میں ٹیومر کے اثرات پا ے گے لکین اس کے گھر والی اس سے یہ بات چھپا تے رہے اس سب احتتا ط کے باوجود وہ اپنے پاپا کی باتیں سن لیتیہے اور سب جاننے کے بعد وو تو جیسے جیتے جی مرنے لگتی لکین وہ فہد سے ی بات چھپا تی ہے کیوں کہ وہ نہیں چاہتی کہ اس کی وجہ سے فہد ذرا بھی پرشان ہو وہ اسے ذرا بھی پرشان نہیں دیکھ سکتی تھی . کیوں سچ تو ی بھی تھا کے فہد کو بھی یسری کی عادت ہو گئی تھی اس سے جگڑا کر اسے اچھا لگتا تھا وہ جن بوجھ کا یسری سے جگڑا کرتا تاکہ یسری اسے مناۓ اسے ہی ہنسی خو شی دن گزرتے رہے ہیں 
پتا نہیں یے پیار کہانی ہے یا دوستی کی انمول مثال ایسی دوستی جس پے ایک دوسرے کے لیے سب قربان کرنے کا جذبہ ہے جس میں پیار خلوص سب کچھہے .اور آج بھی ان کی دوستی ویسے ہی ہے جس میں ایک دوسرے کا لیے ا عزت پیار خلوص سب کچھ اب آگے کیا ہوگا کیا یسری اپنا کیا وعدہ پورا کر پا ے گی یا ہمیشہ کی طرح یہ اکلوتا رشتہ بھی چھن جا ے گا ؟
الله کبھی کسی کو اس کے دوست سے جدا نہ کرے کیوں کے دوستوں سے ہی تو زندگی حسین بن جاتی ہے اور اگر دوست اچھے ہوں تو زندگی سنور جاتی ہے کبھی کسی دوست کا دل نہ توڑو اور نہ ہی کسی دوست کو دھو کہ دو
Truly great friends are hard to find,
Difficult to leave and
Impossible to forget.

+ Click Here To Join also Our facebook study Group.

..How to Join Subject Study Groups & Get Helping Material?..

..How to become Top Reputation, Angels, Intellectual, Featured Members & Moderators?..


See Your Saved Posts Timeline

Views: 325

.

+ http://bit.ly/vucodes (Link for Assignments, GDBs & Online Quizzes Solution)

+ http://bit.ly/papersvu (Link for Past Papers, Solved MCQs, Short Notes & More)

+ Click Here to Search (Looking For something at vustudents.ning.com?)

Comment

You need to be a member of Virtual University of Pakistan to add comments!

Join Virtual University of Pakistan

© 2019   Created by + M.Tariq Malik.   Powered by

Promote Us  |  Report an Issue  |  Privacy Policy  |  Terms of Service